زمانے کی دھڑکن میں نور کی صدا ہے یہی عشقِ فطرت، یہی روشنا ہے جہاں کی فضاؤں میں سکون کی ادا ہے دعاؤں کی صورت میں کرم کی عطا ہے کہاں ہے سکوں؟ یہ سوالِ جاوداں ہے جواب اس کا مخفی، الرحمن الرحیم ہے یہ دل کی گواہی، یہی سرمدی حقیقت ہے ذکرِ ازل، اور یہی حمد کی بشارت
ur
Öffentlich
vor 5 Monaten
Proben
Es gibt noch keine Hörproben