Faizan

Faizan

@Faizan Ahmed
1Utilizações
0Ações
0Gostos
0Salvo por

ادھورا سفر: ایک حقیقت، ایک سبق میری زندگی ہمیشہ سے ایک اچھی اور پرتعیش رہی تھی۔ میرے والد نے اپنی زندگی میں سخت محنت کی اور ایک کامیاب کیریئر بنایا، جس کی بدولت میں نے کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں کی۔ ہمارا ایک خوشحال گھرانہ تھا—میرے ماں باپ، چار بہنیں، ایک بھائی، میری بیوی اور میری ایک بیٹی۔ دو بہنیں مجھ سے بڑی ہیں اور دو چھوٹی، جبکہ میرا بھائی سب سے چھوٹا ہے۔ بچپن سے ہی مجھے گاڑیوں کا شوق تھا، شاید یہ شوق میرے والد سے مجھ میں منتقل ہوا تھا۔ میں ہمیشہ گاڑیوں کے اردگرد ہی رہتا، ان کے بارے میں سیکھتا اور ان سے جُڑے کاموں میں دلچسپی لیتا۔ یہی شوق مجھے گاڑیوں کے کاروبار میں لے آیا—کبھی رینٹ اے کار، کبھی بائنگ اینڈ سیلنگ، بس گاڑیوں کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں تھا۔ تعلیم کے معاملے میں بھی میں نے اپنی حد تک محنت کی۔ میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہوں، لیکن ہمیشہ ایک اوسط درجے (average) کا طالبعلم رہا۔ نہ میں کبھی ٹاپر رہا، نہ ہی بہت پیچھے تھا—بس درمیانی سطح پر ہی چلتا رہا۔ مجھے پڑھائی سے زیادہ عملی زندگی کے تجربات اور کاروباری دنیا میں دلچسپی تھی، اور شاید یہی وجہ تھی کہ میں ہمیشہ عملی کاموں میں زیادہ سرگرم رہا۔ کامیابی سے غلطی تک میری زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جب ایک دوست نے مجھے پراپرٹی کے بزنس میں جانے کا مشورہ دیا، خاص طور پر گلبرگ گرینز، اسلام آباد میں۔ میں نے یہ نیا کام سیکھنا شروع کیا، اور چند مہینے اسی میں لگا دیے۔ چیزیں اچھی چل رہی تھیں، لیکن پھر مجھ سے ایک غلطی ہوگئی—میں لالچ میں آ گیا۔ میں نے اپنے دوست کو بتائے بغیر خود الگ سے کام شروع کر دیا۔ کچھ اور لوگوں کے ساتھ مل کر پراپرٹی کا بزنس کرنے لگا۔ وہ لوگ مجھے بہت اچھا منافع دیتے، اور سب کچھ ٹھیک لگنے لگا۔ اس دوران میرے کچھ قریبی رشتہ داروں، دوستوں اور کزنز نے بھی میرے ساتھ سرمایہ کاری شروع کر دی۔ سب کچھ اچھا چل رہا تھا، لیکن پھر ایک دن وہ لوگ، جن کے ساتھ میں نے بزنس کیا تھا، دھوکہ دے کر غائب ہوگئے۔ جب سچائی بے وقعت ہوجائے سب کچھ تباہ ہو گیا۔ وہ سب لوگ جنہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا تھا، انہوں نے مجھے ہی قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ میں لوگوں کی نظر میں ایک "فراڈیا" بن چکا تھا۔ میرے لیے یہ سب ناقابلِ برداشت تھا، کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا، لیکن جب وقت برا ہو تو سچ کی بھی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ قریبی لوگوں کی اصل حقیقت لیکن سب سے زیادہ تکلیف مجھے تب ہوئی جب میرے اپنے سب سے قریبی لوگوں نے مجھے بے حد ذلیل کیا۔ جن لوگوں سے میں نے ہمیشہ بے لوث محبت کی، جنہیں اپنی زندگی کا حصہ سمجھا، انہی لوگوں نے مجھے ایسے طنز اور طعنے دیے، جن کی میں نے کبھی توقع بھی نہیں کی تھی۔ کچھ لوگوں نے مجھ پر ایسا شک کیا، جیسے میں ان کے ساتھ کوئی بہت بڑی سازش کر چکا ہوں۔ جنہیں میں اپنا سب کچھ مانتا تھا، وہ مجھے دھوکہ باز کہنے لگے۔ وہ لوگ جو کل تک میرے ہر فیصلے میں میرے ساتھ تھے، آج میرے سامنے کھڑے ہو کر مجھے مجرم بنا رہے تھے۔ بیوی کا ساتھ اور وہ چند جملے جو دل توڑ گئے ان سب مصیبتوں میں میری بیوی نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ جب دنیا نے میرا ساتھ چھوڑ دیا، جب اپنے ہی مجھے غلط کہنے لگے، جب دوست دشمن بن گئے، تب میری بیوی نے میرا حوصلہ بڑھایا، میرے ساتھ کھڑی رہی، اور ہر ممکن سپورٹ دی۔ میں اپنی بیوی کی بے حد عزت کرتا ہوں کیونکہ اس نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا، میرے برے وقت میں میرا سہارا بنی۔ لیکن سچ یہ بھی ہے کہ اس دوران کچھ ایسے لمحے آئے، جب اس نے بھی ایسی باتیں کہیں، جو میرے دل پر تیر کی طرح لگیں۔ میں ان باتوں کی توقع کسی اور سے کر سکتا تھا، مگر اس سے نہیں۔ شاید وہ بھی حالات سے تنگ آ گئی تھی، شاید وہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی، لیکن جو الفاظ ایک بار کہہ دیے جائیں، وہ چاہ کر بھی بھلائے نہیں جا سکتے۔ میں نے خود کو سنبھالا، اپنی تکلیف کو دل میں رکھا، اور اس سے اس بات کا شکوہ بھی کیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی سب کچھ سہہ جانا پڑتا ہے، کیونکہ کچھ رشتے برداشت اور صبر سے ہی چلتے ہیں۔ بہنوں کا بھرپور ساتھ میری بہنیں، میری وہ جنت کے ٹکڑے، جنہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی میرا یقین نہیں چھوڑا، وہ آج بھی میرے ساتھ کھڑی ہیں۔ میرے لیے جب دنیا نے مجھے پیچھے دھکیل دیا، میرے بہنوں نے مجھ پر ہمیشہ یقین رکھا اور وہ ہر لمحہ میرے ساتھ کھڑی رہیں۔ میری بہنوں کی حمایت میرے لیے کسی انمول خزانے سے کم نہ تھی۔ چاہے حالات جیسے بھی تھے، میری بہنوں نے کبھی بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا۔ انہوں نے نہ صرف جذباتی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی میری مدد کی، اور میں آج بھی ان کا شکرگزار ہوں۔ بیوی، بہنیں اور والدین—یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بھی آزمائش میں آپ کا ہاتھ تھامے رکھتے ہیں۔ ان کی محبت، سپورٹ اور یقین نے میری زندگی کے سب سے مشکل لمحات کو قدرے آسان بنا دیا۔ ان سب کی حمایت کے بغیر میں یہ سب برداشت نہیں کر پاتا۔ فرار یا مجبوری؟ میری مشکلات تب اور بڑھ گئیں جب میرے ایک قریبی دوست نے مجھ پر FIR درج کروا دی۔ وہ جانتا تھا کہ میرا نقصان ہوا ہے، کہ میں خود ایک دھوکے کا شکار ہوا ہوں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی اصل رقم کے ساتھ منافع بھی مانگ رہا تھا۔ میرے لیے وہ رقم ادا کرنا ناممکن تھا، کیونکہ میں صفر پر آ چکا تھا۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ میرے پاس پاکستان چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ میں دبئی شفٹ ہو گیا، شاید اس امید میں کہ یہاں سے زندگی کو کسی نہ کسی طرح دوبارہ کھڑا کر سکوں گا۔ لیکن دبئی میں بھی حالات میرے حق میں نہیں جا رہے۔ یہاں آ کر محسوس ہوا کہ زندگی کا سب سے مشکل دور اب شروع ہوا ہے۔ کسی طرح کی کوئی سیٹنگ نہیں بن پا رہی، نہ کام چل رہا ہے، نہ زندگی کسی ڈگر پر آ رہی ہے۔ ‎محرومی کا نیا احساس ‎میں وہی شخص ہوں جو کبھی ہزاروں روپے چند منٹوں میں خرچ کر دیتا تھا، جس کے لیے پیسے کبھی کوئی مسئلہ نہیں تھے۔ لیکن آج، حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ کئی بار ایسا ہوا کہ پورا دن بھوکا رہا ہوں کیونکہ کھانے کے پیسے نہیں تھے۔ ‎کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی مجھے اس موڑ پر لے آئے گی، جہاں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی ایک چیلنج بن جائے گا۔ لیکن میں نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ بھوک کو برداشت کر لیا، خود پر جبر کر لیا، لیکن اپنی خودداری پر آنچ نہیں آنے دی۔ ‎یہی زندگی ہے—کبھی عیش و عشرت، کبھی فاقے۔ وقت انسان کو بدل دیتا ہے، لیکن اصل امتحان یہی ہے کہ مشکل وقت میں بھی خود کو گرانا نہ پڑے۔ ماں باپ کا سہارا ان سب حالات میں اگر کسی نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا، تو وہ میرے ابو اور امی تھے۔ جب دنیا نے میرا ساتھ چھوڑ دیا، جب اپنے ہی میرے خلاف ہو گئے، جب مجھے جھوٹا اور دھوکہ باز کہا جانے لگا، تب بھی میرے والدین میرے ساتھ کھڑے رہے۔ زندگی کا سبق کچھ قریبی دوستوں اور چند کزنز کو چھوڑ کر، سب نے مجھے قصوروار سمجھا۔ میں نے اس سارے واقعے سے جو سیکھا، وہ یہ تھا کہ دنیا میں وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔ جب تک تمہارے پاس سب کچھ ہو، لوگ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی مشکل وقت آتا ہے، سب تمہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ سب سے بڑی تکلیف دھوکہ نہیں، بلکہ وہ طعنے اور طنز ہیں جو وہ لوگ دیتے ہیں جن سے تمہیں کبھی امید نہیں ہوتی۔ میرا سفر ابھی جاری ہے، اور شاید ایک دن لوگ سچ کو بھی دیکھ سکیں گے۔ لیکن آج، میں بس اتنا جانتا ہوں کہ وقت ہر چیز بدل دیتا ہے—رشتے، بھروسے اور لوگوں کے رویے۔ اور میں؟ میں آج بھی وہی ہوں، جو کل تھا۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میں زیادہ سمجھدار ہوں، زیادہ محتاط ہوں، اور شاید پہلے سے زیادہ اکیلا بھی۔

ur
Público
Amostras
Ainda não há amostras de áudio