Shahzaib

Shahzaib

@status poetry
0Usos
0Comparte
0Me gusta
0Guardado por

پلِ صراط کے بیچ قدم ابھی لرز ہی رہے تھے کہ اچانک ہر طرف اندھیرا پھیل گیا، ایسا اندھیرا جو آنکھوں کو نہیں دلوں کو نگل لیتا ہے۔ تب ایک اور حقیقت کھلی، کچھ لوگوں کے آگے ایک روشنی چل رہی تھی، مدھم نہیں، لرزتی نہیں بلکہ واضح اور مضبوط۔ قرآن کہتا ہے “جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا” (سورۃ الحدید: 12) وہ حیران رہ گیا کہ یہ روشنی کہاں سے آئی، یہ روشنی نمازوں سے تھی، سچی توبہ سے تھی، چھپ کر کیے گئے نیک اعمال سے تھی، ان آنسوؤں سے تھی جو کسی نے نہیں دیکھے۔ لیکن پھر ایک اور منظر سامنے آیا، کچھ لوگ اسی پل پر تھے مگر اندھیرے میں، وہ چیخنے لگے “ذرا رکو، ہمیں بھی روشنی دے دو” قرآن نے ان کی آواز محفوظ کر لی “وہ کہیں گے ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ لے لیں” (سورۃ الحدید: 13) مگر جواب آیا ایسا جواب جو روح کو چیر دے “پیچھے لوٹ جاؤ، وہاں نور تلاش کرو” اور اچانک ان کے اور مومنوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی گئی۔ قرآن کہتا ہے “پھر ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں دروازہ ہوگا، اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب” (سورۃ الحدید: 13) وہ لوگ جو دنیا میں نماز بھی پڑھتے تھے اور دین کی باتیں بھی کرتے تھے مگر دل خالی تھا، وہ منافق تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “منافق کی علامت یہ ہے کہ جب بات کرے جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور امانت دی جائے تو خیانت کرے” (صحیح بخاری، صحیح مسلم) آج ان کا نور بجھ چکا تھا، وہ ہاتھ پھیلا کر صرف ایک لفظ کہہ سکے “کاش ہم نے سچ مان لیا ہوتا” پلِ صراط پر روشنی والے آگے بڑھ رہے تھے اور اندھیرے والے وہیں رک گئے۔ وہ اب بھی پل پر تھا، اس کے پاس تھوڑی سی روشنی تھی، نہ پوری نہ ختم، بس اتنی کہ اگلا قدم دکھائی دے سکے، اس نے دل ہی دل میں کہا “یا اللہ اسے بجھنے نہ دینا” مگر ابھی فیصلہ باقی تھا کیونکہ پل کے آخر میں ایک اور مقام تھا جہاں پہنچ کر بھی کوئی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پلِ صراط کے آخری قدم پر پہنچ کر وہ رک گیا، قدم کانپ رہے تھے، دل دھڑک رہا تھا اور ہر سانس ایسی خاموشی میں گم تھی جیسے دنیا کی ہر چیز ختم ہو گئی ہو۔ آگے ایک نہایت روشنی والا دروازہ تھا، یہ قنطرہ تھا، جنت سے پہلے آخری امتحان اور حساب کا مقام۔ قرآن کہتا ہے “اور جس کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ نقصان اٹھائے گا” (سورۃ الاعراف: 8–9) وہ جانتا تھا کہ اس کا پلڑا ہلکا ہے، گناہوں کا بوجھ زیادہ ہے اور نیکیاں کم۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “قیامت کے دن مفلس وہ ہوگا جس کے پاس اعمال ہوں گے مگر اس نے لوگوں کے حقوق ادا نہیں کیے ہوں گے” (صحیح مسلم) وہ سوچ رہا تھا کہ میں نے کچھ نیکیاں کیں مگر لوگوں کے حقوق مارے، حسد، غرور اور غفلت میں مبتلا رہا، اور اسی لمحے اس کے اعمال کا تول مکمل ہوا۔ پلِ صراط پر روشنی والے آگے بڑھ رہے تھے اور اندھیرے میں رہنے والے نیچے جا رہے تھے۔ وہ حیرت زدہ تھا، پھر اچانک ایک آواز گونجی “یہ وہ دن ہے جس دن ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق انصاف پائے گا، نہ کسی پر ظلم ہوگا نہ کسی کو نقصان” (سورۃ الانبیاء: 47) وہ پل کی آخری طرف بڑھا، قدم قدم پر اس کے اعمال گواہی دے رہے تھے، زبان کہہ رہی تھی، ہاتھ بول رہے تھے، پاؤں گواہی دے رہے تھے۔ اب ایک لمحہ آیا جب اس کے پلڑے کی تھوڑی سی روشنی اور بھاری گناہوں کا بوجھ ایک چمکتی ہوئی پلک کے ساتھ تولنے میں آیا، وہ جان گیا کہ یقینی فیصلہ ہونے والا ہے، اور پھر ایک آخری فرصت، ایک آخری دعا دل میں گونجی “یا اللہ اگر رحمت تیری چاہی گئی تو مجھے بخش دے، اور اگر نہیں تو مجھے اپنے فیصلے کا حقدار بنا دے” یہ دعا پلِ صراط کے اس آخری لمحے سب سے طاقتور ہوئی۔ قرآن کہتا ہے “اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اسے آسان راستہ دے دیتا ہے” (سورۃ الطلاق: 2) اب وہ روشنی کی طرف بڑھا، پل کا آخر قریب تھا اور قنطرہ کے ذریعے جنت کی طرف ایک چھوٹی سی کرن دکھائی دینے لگی، پل کے آخر میں ایک لمحہ ایسا آیا جس پر انسان کا دل سکڑ گیا اور روح کانپ گئی، یہ وہ لمحہ تھا جہاں حقیقت اور عمل ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوئے۔

hiMasculinoEducativoJovenProfundoVoz del PersonajeMedioEntretenimientoConversacionalPublicidadNarraciónRedes SocialesAltoBajoTranquiloRelajadoAmigableHindi
Público
Muestras
Aún no hay muestras de audio