Killixis

Killixis

@Hussain Ameer
0Utilizações
0Ações
0Gostos
0Salvo por

سوچو... ایک ایسی آگ جس میں پورا شہر جل سکتا تھا... ایک ایسی آگ جس کی گرمی سے پتھر پگھل سکتے تھے... ایک ایسی آگ جس کی لپٹ اتنی بلند تھی کہ آسمان تک پہنچ رہی تھی... لیکن جب اُس آگ میں ایک انسان کو پھینکا گیا... تو وہ آگ... ٹھنڈی ہو گئی۔ یہ کیسی آگ تھی؟ اور وہ کون تھا جس کے لیے اللہ نے قدرت کے قوانین بدل دیے؟ ‎ ‎آج کی کہانی ہے... ایک نوجوان کی... جس نے صرف اللہ پر بھروسہ کیا... اور اللہ نے پوری کائنات کو اُس کی حفاظت میں لگا دیا۔ ‎ ‎ ‎حضرت ابراہیم علیہ السلام... اللہ کے خلیل... باپ الانبیاء... وہ پیغمبر جنہوں نے توحید کی بنیاد رکھی۔ قرآنِ کریم میں کئی جگہ اُن کا ذکر ہے۔ سورہ الانبیاء، سورہ مریم، اور سورہ الصافات میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی قربانی اور ایمان کی داستان بیان فرمائی ہے۔ ‎ ‎لیکن آج ہم بات کریں گے اُس واقعے کی... جب ایک باپ اپنے بیٹے کے خلاف ہو گیا... جب پوری قوم ایک شخص کے خلاف کھڑی ہو گئی... اور جب آگ کو حکم ملا کہ... "ٹھنڈی ہو جا۔" ‎ ‎ ‎عراق کے علاقے میں... ہزاروں سال پہلے... ایک شہر تھا جس کا نام تھا بابل۔ یہاں کے لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ پتھر کی مورتیں... لکڑی کے کھلونے... سورج، چاند، ستارے... سب کچھ معبود بن چکے تھے۔ ‎ ‎اِس شہر کا بادشاہ تھا نمرود۔ ایک ظالم... ایک متکبر... جو خود کو خدا سمجھتا تھا۔ اور اِس شہر میں پیدا ہوئے... حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ ‎ ‎آزر نام کا ایک آدمی تھا... جو بتوں کو بناتا تھا اور بیچتا تھا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ تھے۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام بچپن سے ہی سمجھتے تھے... کہ یہ پتھر کی مورتیں... اللہ نہیں ہو سکتیں۔ ‎ ‎قرآنِ کریم سورہ الانعام آیت نمبر 74 سے 79 میں اللہ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: "کیا تم اِن بتوں کو خدا بناتے ہو جو نہ تمہیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟" ‎ ‎ ‎ایک دن... جب پوری قوم ایک بڑے میلے میں گئی... حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے رہ گئے۔ اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ آج... لوگوں کو سبق سکھانا ہے۔ ‎ ‎اُنہوں نے معبد میں گھس کر... تمام بتوں کو... کلہاڑی سے توڑ دیا۔ صرف سب سے بڑا بُت... وہ چھوڑ دیا... اور کلہاڑی اُس کے کندھے میں رکھ دی۔ ‎ ‎جب لوگ واپس آئے اور اپنے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا... تو چیخنے چلانے لگے۔ قرآنِ کریم سورہ الانبیاء آیت 59 سے 63 میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اُنہوں نے پوچھا: "یہ کس نے کیا؟" ‎ ‎لوگوں نے کہا: "ایک نوجوان ہے جس کا نام ابراہیم ہے... وہ ہمارے بتوں کے خلاف باتیں کرتا ہے۔" ‎ ‎حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بُلایا گیا۔ اُنہوں نے کہا: "یہ پوچھو اِس بڑے بُت سے... شاید اِس نے توڑے ہوں!" ‎ ‎لوگ غصے میں آ گئے۔ لیکن پھر... خود سے ہی شرما گئے۔ اُنہوں نے سوچا: "یہ تو سچ ہے... یہ بتوں کو کچھ آتا ہی نہیں۔" ‎ ‎لیکن نمرود اور اُس کے پیروکار... حق کو قبول کرنے کو تیار نہ تھے۔ ‎ ‎نمرود نے حکم دیا: "اِس شخص نے ہمارے معبودوں کی توہین کی ہے! اِسے سزا ملنی چاہیے... ایسی سزا... جو مثال بن جائے۔" ‎ ‎لوگوں نے مل کر فیصلہ کیا: "اِسے آگ میں جلا دو!" ‎ ‎صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، جب یہ فیصلہ سنایا گیا... تو پوری قوم خوشی منا رہی تھی۔ اُنہوں نے سوچا کہ اب یہ تہمت ختم ہو جائے گی۔ ‎ ‎لیکن... آگ کیسے جلائی جائے... اتنی بڑی... اتنی تیز... کہ ابراہیم علیہ السلام بچ نہ سکیں؟ ‎ ‎لوگوں نے کئی دن محنت کی۔ لکڑیاں جمائیں... اتنی زیادہ کہ پہاڑ بن گیا۔ تیل اور گھاس پھونکا۔ آگ اتنی تیز تھی کہ کوئی قریب نہیں آ سکتا تھا۔ ‎ ‎تفسیر ابنِ کثیر کے مطابق، آگ کی گرمی اتنی زیادہ تھی کہ پرندے اگر اوپر سے گزرتے... تو جل کر گر جاتے۔ ‎ ‎ ‎اب مسئلہ یہ تھا... حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں کیسے پھینکا جائے؟ کوئی قریب جا ہی نہیں سکتا تھا۔ ‎ ‎شیطان نے لوگوں کو مشورہ دیا: "منجنیق بناؤ... ایک بڑا گلہ... اور اُس میں ابراہیم کو ڈال کر آگ میں پھینک دو۔" ‎ ‎لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو باندھا گیا۔ اُنہیں منجنیق میں رکھا گیا۔ ‎ ‎اُس وقت... زمین... آسمان... فرشتے... سب گھبرائے ہوئے تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا: "یا ابراہیم! کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟" ‎ ‎حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: "تم سے نہیں... میرا رب جانتا ہے میری حالت۔" ‎ ‎یہ وہ ایمان تھا... جہاں دل میں صرف اللہ کا ٹکہ تھا۔ تفسیر القرطبی میں یہ واقعہ تفصیل سے مذکور ہے۔ ‎ ‎اور جب اُنہیں آگ کی طرف پھینکا گیا... ‎ ‎اُس وقت اللہ نے حکم دیا... ‎ ‎قرآنِ کریم سورہ الانبیاء آیت نمبر 69 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‎ ‎"قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ" ‎ ‎"ہم نے کہا: اے آگ! ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا ابراہیم پر۔" ‎ ‎اور... آگ... جس آگ میں پتھر پگھل سکتے تھے... وہ آگ... پھولوں کا باغ بن گئی۔ ‎ ‎تفسیر ابنِ عباس کے مطابق، آگ صرف رسّوں کو جلا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آزاد کر دیا... باقی سب کچھ... محفوظ تھا۔ ‎ ‎لوگوں نے دیکھا... ابراہیم سلامت ہیں... اُن کے بال تک نہیں جلے... اُن کے کپڑے تک نہیں جلے... بلکہ اُن کا چہرہ... نورانی تھا۔ ‎ ‎نمرود حیران رہ گیا۔ اُس کے بتوں نے اُس کی مدد نہیں کی۔ اُس کی آگ نے اُس کا کہا نہیں مانا۔ کیوں؟ کیونکہ جب اللہ کسی کے ساتھ ہو... تو کون اُسے نقصان دے سکتا ہے؟ ‎ ‎ ‎ ‎حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ کہانی... صرف ایک معجزہ نہیں... یہ ہماری زندگی کا سبق ہے۔ ‎ ‎پہلا سبق: حق پر جماعت کا ساتھ ضروری نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے تھے... لیکن سچ پر تھے۔ ‎ ‎دوسرا سبق: اللہ پر توکّل ہی اصل طاقت ہے۔ جب تک دل میں اللہ کا یقین ہے... کوئی آگ جلا نہیں سکتی۔ ‎ ‎تیسرا سبق: دنیا کے خوف سے بڑی چیز... اللہ کی رضا ہے۔ نمرود بادشاہ تھا... لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُس سے نہیں... اللہ سے ڈرا۔ ‎ ‎آج بھی... جب مشکلات آگ کی طرح گھیر لیتی ہیں... تو یاد رکھو... وہ اللہ جو ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے... وہ تمہاری مشکلوں کو بھی آرام میں بدل سکتا ہے۔ ‎ ‎بس شرط یہ ہے... کہ دل میں یقین ہو... زبان پر ذکر ہو... اور قدموں میں سچ کی ہمت ہو۔ ‎ ‎حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں سکھایا... کہ اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ دینا... اصل میں سب کچھ پا لینا ہے۔ ‎

hiMasculinoJovemMídias SociaisAltoMeia IdadeNarraçãoEntretenimentoSuaveProfissionalSérioNarrativaHindi
Público
Amostras
Ainda não há amostras de áudio