مسجد کے صحن میں فجر کی نرم روشنی پھیل رہی تھی۔ ایک ننھی بچی سفید حجاب میں، ہاتھ اٹھائے خاموشی سے دعا کر رہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر لبوں پر کوئی شکوہ نہ تھا۔ لوگ سمجھتے تھے وہ کچھ مانگ رہی ہے، مگر حقیقت میں وہ شکر ادا کر رہی تھی۔ اس کے والد بیمار تھے، گھر میں تنگی تھی، اور زندگی آسان نہ تھی۔ مگر ماں نے اسے سکھایا تھا: “اللہ سے مانگنے سے پہلے اُس کا شکر ادا کیا کرو، کیونکہ وہ دلوں کے حال جانتا ہے۔” بچی کی دعا بس اتنی تھی: “یا اللہ! اگر یہ آزمائش تیری رضا کے لیے ہے تو مجھے صبر دے، اور اگر یہ سزا ہے تو مجھے معاف فرما۔” وہ جانتی تھی کہ اللہ آنسوؤں کی زبان سمجھتا ہے، اور جو دل سے مانگا جائے، وہ کبھی ضائع نہیں جاتا۔ کچھ دن بعد حالات بدلے، یا شاید نہیں بدلے— مگر اس بچی کا دل مطمئن ہو گیا۔ کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا: سکون ملنے کا نام ایمان ہے، اور ایمان ملنے کا نام دعا۔
