بنی اسرائیل کے دور میں ایک نہایت نیک عورت تھیں حضرت حنہ بنت فاقوذا۔ وہ نبی اور عالم حضرت عمران علیہ السلام کی زوجہ تھیں۔ دونوں اللہ کے مقرب بندے تھے، اور ان کی زندگی اللہ کی رضا کے لیے وقف تھی۔ حنہ کی کوئی اولاد نہ تھی، مگر ان کا دل ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا رہتا تھا۔ ایک دن انہوں نے آسمان پر پرندوں کے بچوں کو دیکھا جو اپنی ماں کے گرد خوشی سے چہک رہے تھے۔ ان کا دل بھر آیا۔ انہوں نے رب سے رو رو کر عرض کی: "اے میرے رب! اگر تُو مجھے اولاد دے، تو میں اسے تیرے گھر (بیت المقدس) کی خدمت کے لیے وقف کر دوں گی۔" اللہ نے ان کی دعا قبول کر لی۔ تھوڑے عرصے بعد حنہ حاملہ ہوئیں۔ وہ بہت خوش تھیں اور ہر لمحہ اللہ کا شکر ادا کرتیں۔ مگر جب بچی پیدا ہوئی، تو ان کی زبان پر افسوس کے ساتھ یہ الفاظ آئے: "اے میرے رب! یہ تو بیٹی ہے!" اس وقت کے رواج کے مطابق، صرف بیٹے ہی بیت المقدس میں خدمت کے لیے وقف کیے جاتے تھے۔ اللہ نے فرمایا: "تم نہیں جانتیں، مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ بچی کتنی عظیم ہوگی!" حنہ نے بچی کا نام رکھا مریم (عبرانی زبان میں جس کا مطلب ہے: عبادت گزار، پاکیزہ)۔ حضرت عمران علیہ السلام اس وقت تک انتقال کر چکے تھے، اس لیے مریم کی پرورش کے لیے ایک سرپرست کی ضرورت تھی۔
