جب پروٹسٹنٹ عیسائی ملک سپر پاور بنی یانی برطانیہ، تو انہونے یہودیوں کے مشن کو سپورٹ کرنا شورو کر دیا، یہاں سے ایک نئے فساد کا بیج بویا گیا۔ برطانیہ نے اپنے وقت کے صیہونی تحریک کے ساتھ مل کر یہودیوں کے لیے فلسطین میں ایک ملک بنانے کی کوشیش شورو کر دی آج دنیا کافی نے تک ایسی مساوات کے اثر میں ہے۔ آپ خود سوچیے جو یہودی کل کے زلیل، آج دنیا کی سیاست کے سب سے طاقتور کھلاڑی ہیں۔ جو عیسائی انکے دشمن د، آج انکے سب سے بڑے حامی ہیں۔ "یہ دنیا سیاست کا کھیل ہے، اور یہ کھیل کسی کا ساگا نہیں ہوتا۔ پر جو ہے کھیل کو سمجھ لے، وہ اپنی تقدیر لکھنے والا بن جاتا ہے۔" 1897 میں تھیوڈر ہرزل نی صیہونی تحریک قائم کی تھی یہودی، جو دنیا کے ہر کسی میں بکھرے ہوئے، ایک بار پھر اپنے وعدے کی سرزمین کے سپنے کو جینا چاہتے ہیں۔ ایسی کے ساتھ دنیا میں ایک اور عجیب گھٹنا ہوا تھا۔ جب صہیونی تحریک قائم کی گئی تھی اس مدت میں ایک اور چیز سامنا آئے تھی جو دنیا کو ہیراں کرنے والی تھی، یا وو تھی فرعون کی لاش۔ فرعون، جو تکبر کا نشان تھا، uski جسم کی دریافت اور صیہونی تحریک کا ایک ساتھ ہونا کیا ایک نشانی تھی؟