جب کبھی مجھ کو غمِ دہر نے ناشاد کیا اے غمِ دوست تجھے میں نے بہت یاد کیا اشک بہہ بہہ کے مرے خاک پر جب گرنے لگے میں نے تجھ کو ترے دامن کو بہت یاد کیا قید رکھا مجھے صیاد نے کہہ کہہ کے یہی ابھی آزاد کیا، بس ابھی آزاد کیا ہائے وہ دل مجھے اُس دل پہ ترس آتا ہے تُو نے برباد کیا جس کو نہ آباد کیا
ur
Público
há um ano
Amostras
Ainda não há amostras de áudio
