Horror

Horror

@Abdulaziz Kashif
0الاستخدامات
0المشاركات
0الإعجابات
0تم الحفظ بواسطة

رات کے بارہ بجے کا وقت تھا۔ بارش رک چکی تھی، مگر آسمان پر بادل ابھی بھی گرج رہے تھے۔ گاؤں کے آخری کونے پر واقع پرانی کوٹھی برسوں سے خالی پڑی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ وہاں جنات بسیرا کرتے ہیں۔ لیکن علی، جو ایک نڈر نوجوان تھا، ان باتوں کو محض کہانیاں سمجھتا تھا۔ دوستوں کے مذاق اور چیلنج کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کوٹھی میں ایک رات گزار کر ثابت کرے گا کہ یہ سب افسانہ ہے۔ کوٹھی میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا۔ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہال، جس کی دیواروں پر کائی جمی تھی، عجیب سا بوجھ ڈال رہا تھا۔ علی نے ٹارچ جلائی۔ روشنی میں پرانا فرنیچر، ٹوٹا ہوا آئینہ اور بوسیدہ پردے نظر آئے۔ لیکن سب سے خوفناک وہ چیخ جیسی آواز تھی جو کہیں دور تہہ خانے سے سنائی دی۔ علی نے خود کو بہادر ظاہر کرنے کے لیے ٹارچ مضبوطی سے پکڑی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ نیچے جاتے ہی ہوا مزید ٹھنڈی ہو گئی۔ سیڑھیوں کے آخر میں ایک دروازہ تھا، جس پر زنگ آلود قفل لگا ہوا تھا۔ جیسے ہی اس نے قفل کو چھوا، وہ خودبخود کھل گیا۔ علی کا دل دھڑکنے لگا، مگر اس نے ہمت کر کے قدم بڑھا دیے۔ کمرہ تاریک تھا۔ جیسے ہی اس نے روشنی ڈالی، دیواروں پر پرانے خون کے دھبے نظر آئے۔ فرش پر کٹے ہوئے پنجوں جیسے نشانات تھے۔ اچانک ٹارچ کی روشنی جھپکنے لگی، اور علی نے دیکھا کہ کونے میں ایک سایہ کھڑا تھا۔ وہ سایہ انسان کے قد کا تھا، مگر اس کی آنکھیں آگ کی طرح دہک رہی تھیں۔ سایہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔ علی کے ہاتھ کانپنے لگے، مگر اس نے زور سے کہا: “کون ہے؟ سامنے آؤ!” اس کے جواب میں ایک کان پھاڑ دینے والی ہنسی گونجی۔ دیواروں نے جیسے وہ ہنسی دہرائی۔ علی کے قدم پیچھے ہٹنے لگے، مگر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ سایہ قریب آیا، اور اس کا چہرہ آہستہ آہستہ نمایاں ہونے لگا۔ وہ چہرہ انسانی نہیں تھا: آدھا جلا ہوا گوشت، خالی آنکھوں کے گڑھے اور ٹوٹی ہوئی ہڈیاں۔ اچانک روشنی بند ہو گئی۔ علی نے ٹارچ دوبارہ جلائی تو وہ سایہ اس کے بالکل سامنے تھا۔ ایک برفیلی ہوا کا جھونکا اس کے جسم سے ٹکرایا، اور علی بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔ صبح کے وقت گاؤں کے چند لوگ کوٹھی کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر گئے تو فرش پر علی کا موبائل پڑا تھا، مگر وہ خود کہیں نظر نہ آیا۔ صرف خون کے نشان سیڑھیوں سے باہر کی طرف جا رہے تھے، جو اچانک بیچ راستے میں غائب ہو گئے۔ اس دن کے بعد کسی نے بھی اس کوٹھی کا رخ نہ کیا۔ گاؤں والے کہتے ہیں کہ رات کو وہاں سے اب بھی ایک نوجوان کی چیخیں سنائی دیتی ہیں، جو مدد کے لیے پکار رہا ہوتا ہے۔

ur
عام
استخدم الصوت
عينات
لا توجد عينات صوتية بعد