جواب دو سلطان اورہان۔ یا جنگ۔ یا امن۔ میں یہاں جواب دینے نہیں بلکہ جواب لینے آیا ہوں۔ ایزنِک مجھے دے دو۔۔ تاکہ قسطنطنیہ میں ْتمہاری زندگی لمبی ہو۔ ايزنک کو جنگ کے بغیر سونپ دینا۔ یہ غفلت صرف میرے دادا ہی کر سکتا تھا۔ دشمن کو بغیر جنگ کے زمین دینے والا وہ ایک غدّار تھا۔ جس نے میری جان سے جان نکالی ہے۔ اُسکی سانس۔ جو میری زمین پر نظر رکھے گا۔اسکے ہاتھ کاٹ کر پھینک دونگا۔ یہ رہا میدان۔ اور یہ رہا مَرد۔ جس میں ہمّت ہے۔ جس میں جُرّات ہے۔ وہ میدانِ جنگ میں میرے سامنے آجائے۔