Denzel Washington

Denzel Washington

@RYK TV village
1Utilizações
0Ações
0Gostos
0Salvo por

دماغ کو اپنے کنٹرول میں رکھو: دودا کی کہانی گاؤں کے کنارے ایک چھوٹے سے جھونپڑے میں دودا رہتا تھا۔ دودا ایک نوجوان، محنتی لڑکا تھا، لیکن وہ اپنے دماغی کمزوری کی وجہ سے اکثر دوسروں کی تنقید کا شکار رہتا۔ گاؤں کے لڑکے اسے مذاق کا نشانہ بناتے اور کہتے، "دودا! تم میں طاقتور جسم تو ہے لیکن دماغ کا کیا کرو گے؟" یہ بات دودا کے دل پر گہری چوٹ کرتی۔ ایک دن وہ مایوسی میں اپنے جھونپڑے کے باہر بیٹھا تھا۔ اس کے دماغ میں ہر طرف منفی خیالات چھائے ہوئے تھے۔ اچانک، گاؤں کے حکیم صاحب وہاں سے گزرے اور دودا کے چہرے پر غمگین تاثرات دیکھ کر رک گئے۔ انہوں نے پوچھا، "بیٹے، کیا ہوا؟ تم اتنے اداس کیوں ہو؟" دودا نے کہا، "حکیم صاحب، سب لوگ کہتے ہیں کہ میرا دماغ کمزور ہے۔ میں کچھ بڑا نہیں کر سکتا۔" حکیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، "بیٹے، جسمانی طاقت عارضی ہے، لیکن دماغی طاقت دائمی۔ اگر تم اپنے دماغ کو قابو میں رکھنا سیکھ لو، تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں ہرا نہیں سکتی۔" یہ بات دودا کے دل میں اتر گئی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنی ذہنی طاقت کو بڑھانے اور اپنے دماغ کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت محنت کرے گا۔ --- پہلا مرحلہ: صبر کی تربیت دودا نے سب سے پہلے اپنے صبر پر کام کرنا شروع کیا۔ وہ صبح جلدی اٹھتا اور گاؤں کے باہر موجود درختوں کے نیچے جا کر گہرے سانس لیتا۔ وہ اپنی سانسوں کو گننے کی مشق کرتا تاکہ اس کا ذہن پرسکون ہو جائے۔ شروع میں، اس کے لیے یہ کام بہت مشکل تھا۔ جب وہ مراقبہ کرنے بیٹھتا تو ہر طرف سے پریشان کن خیالات آتے۔ گاؤں کے لڑکوں کی آوازیں، لوگوں کی تنقید، اور اپنی ناکامی کا خوف اسے ستاتا۔ لیکن دودا نے ہار نہیں مانی۔ وہ ہر روز اپنی مشق جاری رکھتا۔ کچھ مہینوں کے بعد، دودا نے محسوس کیا کہ اس کی ذہنی کیفیت بدل رہی ہے۔ اب جب گاؤں کے لڑکے اسے تنگ کرتے، تو وہ غصے کے بجائے سکون سے ان کی بات کو نظر انداز کر دیتا۔ اس کا صبر گاؤں والوں کے لیے حیرت کا باعث بننے لگا۔ --- دوسرا مرحلہ: مثبت سوچ پیدا کرنا صبر کی مشق کے بعد دودا نے اپنی سوچ کو مثبت کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ دماغ کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے منفی خیالات کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ایک دن دودا نے ایک کاغذ لیا اور اس پر لکھا: "میں سب کچھ کر سکتا ہوں۔" "مجھے خود پر بھروسہ ہے۔" "میں اپنی تقدیر کا مالک ہوں۔" اس نے یہ کاغذ اپنے جھونپڑے کی دیوار پر لگا دیا اور روزانہ صبح اسے بلند آواز میں پڑھتا۔ جب بھی کوئی منفی خیال آتا، وہ فوراً ان جملوں کو دہراتا۔ آہستہ آہستہ، اس کی خوداعتمادی بڑھنے لگی۔ --- تیسرا مرحلہ: علم اور مہارت حاصل کرنا دودا نے سوچا کہ صرف صبر اور مثبت سوچ کافی نہیں، اسے اپنی ذہانت کو بڑھانے کے لیے علم حاصل کرنا ہوگا۔ وہ حکیم صاحب کے پاس گیا اور ان سے کہا، "مجھے بتائیں کہ میں کیسے اپنے دماغ کو مضبوط بنا سکتا ہوں۔" حکیم صاحب نے اسے کچھ کتابیں دیں اور کہا، "پڑھائی اور سوالات تمہارے دماغ کے لیے غذا ہیں۔" دودا نے روزانہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ ساتھ ہی، اس نے معمے حل کرنے اور نئے کام سیکھنے کی مشق شروع کی۔ گاؤں کے بزرگوں سے مشورے لینے لگا اور ان کی باتوں سے سبق حاصل کرتا۔ جلد ہی دودا کی ذہانت گاؤں والوں کے لیے حیران کن بن گئی۔ لوگ اب اس سے مشورہ لینے آتے اور اس کے فیصلوں پر اعتماد کرتے۔ --- امتحان کا وقت ایک دن گاؤں کے قریب موجود دریا میں زبردست سیلاب آ گیا۔ پانی کے تیز بہاؤ نے گاؤں کے گھروں کو خطرے میں ڈال دیا۔ گاؤں والے پریشان تھے کہ وہ کیا کریں۔ کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ ایسے میں دودا نے اپنی ذہنی سکون اور عقل کا استعمال کرتے ہوئے سب کو منظم کیا۔ اس نے لوگوں کو محفوظ جگہ پر پہنچانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا۔ کچھ لوگ پانی میں پھنسے ہوئے تھے، لیکن دودا نے اپنی دماغی حکمت عملی کے ذریعے ایک پل بنانے کا مشورہ دیا اور گاؤں کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر اس پر عمل کیا۔ چند گھنٹوں میں، سب لوگ محفوظ ہو چکے تھے۔ گاؤں والوں نے دودا کی تعریف کی اور کہا، "ہم غلط تھے۔ دودا کا دماغ سب سے طاقتور ہے۔" --- دودا کی کامیابی سیلاب کے بعد دودا پورے گاؤں کا ہیرو بن گیا۔ لوگ اب اس کی عزت کرتے اور اسے اپنی مثال بناتے۔ دودا نے نہ صرف خود کو مضبوط بنایا بلکہ گاؤں کے نوجوانوں کو بھی سکھایا کہ دماغی طاقت کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ --- نتیجہ دودا کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں سب سے بڑی طاقت دماغ کی ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے دماغ کو قابو میں رکھنا سیکھ لیں، تو کوئی بھی رکاوٹ ہمیں روک نہیں سکتی۔ دودا نے اپنے صبر، مثبت سوچ، اور محنت کے ذریعے نہ صرف خود کو بدل دیا بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ بن گیا۔

en
Público
Amostras
Ainda não há amostras de áudio