یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ گلداد نے نیک نیتی، مثبت سوچ اور سیاسی فہم کے تحت یہ تجویز پیش کی ہے کہ ہمیں گورنر صاحب سے ملاقات کرنی چاہیے۔ بلاشبہ ایسی ملاقات وقتی طور پر پارٹی سرگرمیوں میں ایک تاثر پیدا کر سکتی ہے اور مخالفین پر ایک حد تک نفسیاتی دباؤ بھی ڈال سکتی ہے۔ اس پہلو کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں زمینی حقائق کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ گورنر صاحب سے ملاقات کی کوشش پہلے بھی کی جا چکی ہے، اور ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ وہ ہمیں ملاقات کے لیے وقت کیوں نہیں دیتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گورنر صاحب ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ انجینئر امیر مقام کو کسی قسم کی سیاسی یا اخلاقی تکلیف پہنچے۔ ضلع شانگلہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کرنا، درحقیقت انجینئر امیر مقام کے لیے ناگواری کا باعث بن سکتا ہے، اور یہی بات گورنر صاحب کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گورنر صاحب کا تعلق انجینئر امیر مقام سے نہ صرف خاندانی طور پر ہے بلکہ وہ ان کے قریبی ساتھی بھی سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ وہ شانگلہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کو مضبوط ہوتے دیکھنا چاہیں گے یا یہاں پارٹی کو فروغ دینے میں کسی قسم کا کردار ادا کریں گے، زمینی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ شانگلہ کے عوام کے ساتھ ان کا رویہ اور مسلسل نظر انداز کرنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ فرض کریں اگر کسی طور پر گورنر صاحب ملاقات کے لیے وقت دے بھی دیں، تب بھی یہ امید رکھنا کہ ہمارے مسائل سنجیدگی سے سنے جائیں گے یا ان کے حل کے لیے کوئی عملی قدم اٹھایا جائے گا، خود کو دھوکہ دینے کے برابر ہوگا۔ ایسی ملاقات کا حاصل زیادہ سے زیادہ رسمی مسکراہٹیں، چند تصویریں اور شاید ایک اخباری خبر ہو سکتی ہے، مگر اس سے آگے کسی ٹھوس نتیجے کی توقع رکھنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا اگر کوئی محض فوٹو سیشن یا میڈیا کوریج کے لیے اس ملاقات کا خواہاں ہے تو یہ اس کی اپنی سوچ ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ اس ملاقات سے شانگلہ کے عوام کے مسائل حل ہوں گے یا کوئی بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے گا، تو یہ محض خیالی پلاؤ پکانے کے مترادف ہے۔
