Kallix

Kallix

@SHOAIB KHAN
3الاستخدامات
0المشاركات
0الإعجابات
0تم الحفظ بواسطة

شخص… جس نے ننانوے نہیں بلکہ سو انسان قتل کیے ہوں… کیا اس کے لیے بھی مغفرت کا دروازہ کھل سکتا ہے؟ یہ کوئی افسانہ نہیں… یہ ایک سچا واقعہ ہے… جو صحیح مسلم میں روایت ہوا ہے۔ یہ کہانی ہے گناہ کی انتہا… اور توبہ کی عظمت کی۔ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا۔ اس کے دل میں اندھیرا بھر چکا تھا۔ وہ ظلم کی راہ پر چلتے چلتے اس حد تک پہنچ گیا کہ اس نے ننانوے انسانوں کو قتل کر دیا۔ زمین اس کے قدموں سے کانپتی تھی، اور لوگوں کے دل اس کے نام سے دہل جاتے تھے۔ مگر ایک دن… اس کے اندر کچھ بدل گیا۔ شاید ضمیر جاگا… شاید خوفِ آخرت نے دستک دی… شاید اسے احساس ہوا کہ زندگی ختم ہونے سے پہلے کچھ کرنا ہوگا۔ وہ ایک راہب کے پاس گیا اور پوچھا: “کیا میرے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟” راہب، جو عبادت گزار تو تھا مگر علم میں کامل نہ تھا، اس نے کہا: “نہیں۔ تمہارے لیے کوئی توبہ نہیں۔” یہ سن کر اس شخص کے اندر کا طوفان پھر بھڑک اٹھا… اور اس نے اسے بھی قتل کر دیا۔ اب اس کے ہاتھوں پر سو قتل تھے۔ لیکن دل کی بے چینی ختم نہ ہوئی۔ وہ پھر نکلا… اس بار ایک عالم کے پاس پہنچا۔ اس نے وہی سوال کیا: “میں نے سو قتل کیے ہیں… کیا میرے لیے توبہ ہے؟” عالم نے جواب دیا: “تمہارے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ ہاں، توبہ ہے۔ لیکن تم اس بستی کو چھوڑ دو جہاں برے لوگ رہتے ہیں۔ فلاں بستی میں جاؤ، وہاں نیک لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ تم بھی ان کے ساتھ عبادت کرو، اور واپس اپنی پرانی بستی مت آنا۔” یہ جواب امید کی کرن تھا۔ پہلی بار اس شخص نے سنا کہ اللہ کی رحمت اس کے گناہوں سے بڑی ہے۔ وہ فوراً روانہ ہو گیا۔ اس نے اپنی پرانی زندگی، اپنے گناہوں کی زمین، اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کا دل اب ندامت سے بھرا ہوا تھا۔ ہر قدم اس کے لیے بھاری تھا، مگر امید اسے آگے بڑھا رہی تھی۔ مگر ابھی وہ منزل تک پہنچا بھی نہ تھا کہ موت نے اسے آ لیا۔ وہ زمین پر گرا… اور اس کی روح قبض کر لی گئی۔ اب ایک ایسا منظر پیش آیا جسے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا۔ رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آ پہنچے۔ عذاب کے فرشتے کہنے لگے: “اس نے کبھی نیکی نہیں کی۔ یہ ہمارا حق ہے۔” رحمت کے فرشتے بولے: “یہ توبہ کرتے ہوئے نکلا تھا۔ اس کا دل اللہ کی طرف رجوع کر چکا تھا۔” اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ انسانی صورت میں بھیجا تاکہ فیصلہ کرے۔ اس نے کہا: “دونوں بستیوں کا فاصلہ ناپو۔ جس کے زیادہ قریب ہو، وہ اسی کا ہوگا۔” فاصلہ ناپا گیا۔ وہ شخص نیک لوگوں کی بستی کے زیادہ قریب تھا… صرف ایک بالشت کے فرق سے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ نیک بستی کو قریب کر دے… اور بری بستی کو دور کر دے۔ یوں وہ شخص… جس کے ہاتھ سو قتلوں سے رنگے ہوئے تھے… اللہ کی رحمت کے سبب بخش دیا گیا۔ یہ واقعہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ یہ سکھاتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہماری سوچ سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہے جب تک روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔ یہ سکھاتا ہے کہ ماحول بدلنا، برے ساتھی چھوڑنا، اور نیک لوگوں کی طرف جانا… توبہ کا حصہ ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ نیت کی سچائی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے۔

urذكرفي منتصف العمرالتعليق الصوتيرواية القصصعميقهادئمقاساحترافيUrdu
عام
استخدم الصوت
عينات
لا توجد عينات صوتية بعد