Zohaib voice

Zohaib voice

@Zaibi Voice
1Utilisations
0Partages
0Aime
0Enregistré par

زمانہ قدیم میں پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹی سی ریاست "نورستان" آباد تھی، جہاں ایک نوجوان شہزادی "الینا" حکومت کرتی تھی۔ شہزادی ذہین تھی، مگر غرور اس کے لہجے میں جھلکتا تھا۔ اُسے دنیاوی علم پر بڑا ناز تھا، اور وہ روحانیت اور درویشی کو وقت کا زیاں سمجھتی تھی۔ نورستان کی رعایا خوشحال تھی، مگر ہمسایہ ریاست "ظلمات" کے بادشاہ کی نظریں نورستان پر جمی تھیں۔ شہزادی کو آئے دن خبریں ملتیں کہ دشمن حملے کی تیاری میں ہے۔ وہ روزانہ اپنے وزیروں، سپہ سالاروں، اور فلسفیوں سے مشورے کرتی، مگر کوئی فیصلہ اُسے مطمئن نہ کرتا۔ ایک دن شہزادی شکار کے لیے پہاڑی جنگل میں گئی، تو ایک پرانی درگاہ کے پاس سے گزری۔ وہاں ایک درویش جھاڑو دے رہا تھا، اور مسلسل "اللہ مالک ہے... اللہ کافی ہے" کی تکرار کر رہا تھا۔ شہزادی کے ساتھ موجود سپہ سالار نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ درویش پاگل ہے۔ کئی سالوں سے یہاں ہے، نہ کچھ مانگتا ہے، نہ بولتا ہے — بس جھاڑو دیتا ہے اور آسمان کو تکا کرتا ہے۔" شہزادی نے اسے نظرانداز کیا اور آگے بڑھ گئی۔ مگر اسی رات، اُسے ایک عجیب خواب آیا۔ خواب میں وہی درویش اُسے تنبیہ کر رہا تھا: > "دشمن تلواروں سے نہیں، دعاؤں سے ہارے گا۔ غرور کو چھوڑ، ورنہ سب کچھ کھو دے گی۔" صبح ہوئی تو شہزادی بےچین تھی۔ اس نے درویش کو دربار بلایا۔ درویش آیا، خاموشی سے بیٹھ گیا۔ وزیروں نے ناک بھوں چڑھائی، اور شہزادی نے پوچھا: "بتاؤ، دشمن حملہ کرے گا تو ہمیں کیسے بچاؤ گے؟ تمہارے پاس تو نہ ہتھیار ہیں، نہ سپاہی!" درویش نے نرمی سے کہا: > "دلوں کا دفاع قلعوں سے نہیں ہوتا، بلکہ نیتوں سے۔ اگر رعایا سچی ہو، اور حاکم غرور سے خالی، تو رب خود حفاظت کرتا ہے۔" شہزادی خاموش رہی، مگر درویش کی بات دل میں اتر گئی۔ چند دن بعد دشمن نے حملہ کر دیا۔ نورستان کی فوج تیار تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر دشمن کا لشکر جنگ کے آغاز سے پہلے ہی بھاگ گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ دشمن بادشاہ کو زہریلا سانپ کاٹ گیا، اور لشکر بغیر قیادت کے منتشر ہو گیا۔ شہزادی نے درویش کو دربار میں بلایا اور پوچھا، "کیا یہ تمہاری دعا کا اثر تھا؟" درویش مسکرایا: > "یہ اُس رب کی قدرت ہے جو سچوں کے ساتھ ہے۔" شہزادی نے اُسے عزت دی، مشیر خاص بنایا، مگر درویش نے کہا، "مجھے جھاڑو دینا زیادہ پسند ہے۔ محل میں نہیں، مزار کے سائے میں سکون ہے۔" وزیروں کو جلن ہونے لگی۔ وہ طنزیہ انداز میں شہزادی سے کہتے، "ایک جھاڑو دینے والے کو ولی مان لیا؟ کل کو تاج بھی اسے دے دو گی؟" شہزادی خاموش رہتی، مگر درویش کی آنکھوں میں ایسا نور تھا کہ ہر سوال خود بخود دب جاتا۔ کچھ ماہ بعد، شہزادی ایک بیماری میں مبتلا ہوئی۔ حکیم، طبیب، سب نے جواب دے دیا۔ درویش آیا، اُس نے صرف اتنا کہا: > "یا اللہ، اگر یہ تیرے در پر جھکنے کو تیار ہے، تو زندگی دے دے، ورنہ دنیا فانی ہے۔" شہزادی کی حالت سنبھل گئی۔ اُس نے درویش کے قدم چومے اور کہا، "مجھے اپنے نفس سے بچا لو۔ میں حاکم نہیں، خادم بننا چاہتی ہوں۔" درویش نے اُس دن دعا دی، اور پھر کچھ دنوں بعد خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ --- 📜 سبق: غرور، علم کا دشمن ہے جسے تم کمزور سمجھتے ہو، وہی تمہاری اصل طاقت ہو سکتا ہے اللہ جسے چاہے عزت دے، اور جسے چاہے ذلت دل سے نکلنے والی دعا تلوار سے زیادہ کارگر ہوتی ہے کبھی کسی کو کمتر مت سمجھو — درویشوں کے جھاڑو، بادشاہوں کے تاج سے بھاری ہوتے ہیں --- اگر آپ کو یہ سبق آموز کہانی پسند آئی، تو ہمارے چینل کو ضرور سبسکرائب کریں۔ مزید روحانی اور سبق آموز کہانیوں کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔ شکریہ!

ur
Public
Utiliser la voix
Échantillons
Il n'y a pas encore d'échantillons audio