Uj

Uj

@Tiktok Follow
7使用法
0シェア数
0いいね
0Fish Audioに保存されました

ایک دور کی بات ہے، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں "نورپور" میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام حمزہ تھا۔ حمزہ ایک عام کسان کا بیٹا تھا۔ اس کے والد کھیتوں میں کام کرتے تھے اور والدہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ غربت کے باوجود حمزہ کے خواب بہت بڑے تھے۔ اس کی آنکھوں میں شہر کی روشنیاں، تعلیم کی روشنی، اور کچھ بننے کا جنون تھا۔ ہر روز اسکول سے واپسی پر وہ اپنی کتابیں لے کر درخت کے سائے میں بیٹھ جاتا اور دل لگا کر پڑھتا۔ اکثر اس کے دوست کھیل کود میں لگے ہوتے، مگر حمزہ اپنے خوابوں کی دنیا میں مگن ہوتا۔ اسے یقین تھا کہ تعلیم ہی وہ کنجی ہے جو غربت کے دروازے پر لگے تالے کو کھول سکتی ہے۔ پہلا قدم دسویں جماعت میں حمزہ نے پورے ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ گاؤں کے لوگ حیران بھی تھے اور خوش بھی۔ استادوں نے اسے شہباز کہا، اور والدین کی آنکھوں میں فخر کے آنسو تھے۔ مگر اصل امتحان تو ابھی باقی تھا۔ کالج کے اخراجات، شہر میں رہائش، کتابوں کی قیمت — یہ سب ایک غریب کسان کے لیے بہت بھاری تھا۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک مقامی این جی او نے اس کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے اسے اسکالرشپ دے دی۔ حمزہ شہر کے ایک مشہور کالج میں داخل ہو گیا۔ وہاں اس نے دن رات محنت کی۔ کئی بار پیٹ بھر کر کھانے کو نہ ہوتا، مگر علم کی پیاس کبھی کم نہ ہوئی۔ امتحانِ وقت ایک دن اس کی والدہ سخت بیمار ہو گئیں۔ حمزہ کو کالج چھوڑ کر گاؤں واپس آنا پڑا۔ دواؤں کے اخراجات، والد کا بوجھ، اور تعلیم کا سلسلہ — سب کچھ بکھرتا نظر آ رہا تھا۔ مگر حمزہ نے ہمت نہ ہاری۔ وہ دن میں کھیتوں میں کام کرتا، رات کو ماں کی تیمارداری کرتا اور جب سب سو جاتے، تب اپنی کتابیں کھولتا۔ وقت کا پہیہ دھیرے دھیرے گھومتا رہا۔ کئی موسم بدلے، کئی آزمائشیں آئیں۔ حمزہ نے ان سب کا مقابلہ صبر، عزم اور دعا کے ساتھ کیا۔ کامیابی کی صبح بالآخر وہ دن آ گیا جس کا حمزہ نے خواب دیکھا تھا۔ اس نے یونیورسٹی سے انجنئیرنگ میں ٹاپ کیا اور ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری حاصل کی۔ پہلا مہینہ جیسے ہی مکمل ہوا، اس نے سب سے پہلے اپنی ماں کے علاج کے لیے ایک بڑا اسپتال منتخب کیا۔ پھر گاؤں کے اسکول کے لیے کتابیں اور یونیفارم بھیجے۔ چند سالوں میں وہ ایک کامیاب انجنئیر بن گیا۔ لیکن اس نے اپنا گاؤں نہ بھلایا۔ نورپور میں ایک چھوٹا تعلیمی ادارہ بنایا، جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ وہ خود مہینے میں ایک بار وہاں لیکچر دینے جاتا ہے، اور بچوں کو اپنے خوابوں کی کہانیاں سناتا ہے۔ نتیجہ حمزہ کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو، محنت خالص ہو، اور یقین پختہ ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔ اگر آپ چاہیں تو میں اس کہانی کو مزید تفصیل سے بھی بڑھا سکتا ہوں یا کسی مخصوص طرز (رومانوی، تاریخی، سبق آموز) میں لکھ سکتا ہوں۔

hi
公開
ボイスを使用
サンプル
音声サンプルはまだありません