ایک وقت تھا جب صحرا کی سرسبز وادیوں میں ایک طاقتور قوم آباد تھی۔ پہاڑوں کے درمیان گھروں میں لوگ رہتے، زمین کی نعمتوں سے مالا مال تھے۔ ان کے پاس اونچے اونچے قلعے، مضبوط پہاڑ اور گہرے غار تھے۔ لیکن غرور نے ان کے دل اندھے کر دیے تھے۔ وہ اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرتے، ظلم و ستم کے آوارہ گرد بن گئے۔ اللہ نے ان کے پاس حضرت صالح علیہ السلام بھیجے، تاکہ انہیں سیدھے راستے کی طرف بلائیں۔ "عبادت کرو، ظلم چھوڑو، شرک سے بچو!" یہی ان کا پیغام تھا۔ لیکن سردار غرور میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی نصیحت کو رد کیا، اور ایمان کو مذاق بنایا۔ اللہ نے اپنی قدرت کا نشان دیا۔ ایک عظیم اونٹنی پہاڑوں سے نمودار ہوئی۔ یہ اونٹنی ایک واضح نشانی تھی، ہر شخص کو نصیحت کرنے والی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے کہا: "اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچاؤ، یہ اللہ کی نشانی ہے!" لیکن قوم نے اس کی توہین کی، اس پر ظلم کیا۔ یہ ان کے لیے عبرت کا لمحہ تھا۔ پھر اللہ نے اپنی طاقت ظاہر کی۔ زمین نے دہاڑ ماری، پہاڑ ٹوٹ پڑے، زلزلہ آیا۔ تیز ہوا نے صحرا میں تباہی مچا دی۔ قرآنِ کریم سورہ الحجر میں ہے: "پھر ہم نے انہیں زمین میں گھس کر ہلاک کر دیا"۔ جو لوگ سرکشی کر رہے تھے، سب نیست و نابود ہو گئے۔ صرف ایمان والوں نے اللہ کی حفاظت میں جان بچائی۔ یہ قصہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غرور، ظلم اور سرکشی کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔ ایمان، عاجزی اور اللہ پر بھروسہ ہی حقیقی کامیابی ہے۔ قومِ ثمود کی عبرت آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے، کہ دنیا کی طاقت کبھی اللہ کی طاقت کے سامنے کچھ نہیں۔
