Afzalhunjra

Afzalhunjra

@Afzal Hunjraaa
0使用法
0シェア数
0いいね
0Fish Audioに保存されました

ناظرینِ کرام! آج ہم آپ کو بہادری، عدل، حلم اور ایمان سے بھرپور ایک ایسی داستان کی طرف لے چلتے ہیں جو دلوں کو بدل دینے والی ہے۔ یہ قصہ اس ہستی کا ہے جن کی شجاعت میدانِ جنگ میں بھی نظر آتی ہے اور جن کا انصاف عدالت میں بھی بولتا ہے۔ ایک طرف طاقت کا امتحان ہے تو دوسری طرف عدل کا معیار، جہاں دشمن بھی دوست بن جاتا ہے اور حق کی روشنی دلوں کو منور کر دیتی ہے۔ آئیے سنتے ہیں مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی سے جڑا ایک ایمان افروز واقعہ، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل فتح تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے حاصل ہوتی ہے۔ ناظرین! عرب کے شہر تبوک میں ایک قبیلہ آباد تھا۔ اس قبیلے کا ایک بادشاہ تھا جو بت پرست تھا اور دینِ اسلام سے سخت نفرت کرتا تھا۔ اس کے دربار میں ایک نجومی بھی رہتا تھا۔ ایک دن نجومی نے بادشاہ سے کہا: “ کہا اور چند دن بعد اسے بلا کر بولا: “میں تم پر بہت خرچ کر رہا ہوں، جانتے ہو کیوں؟ میں ایک شخص سے سخت نفرت کرتا ہوں، اس کا نام علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ ہے۔ تم اس سے لڑو، اسے قتل کر دو اور اس کا سر میرے پاس لے آؤ، پھر تم میرے داماد بنو گے۔” فتح پہلوان چند ساتھیوں کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ کئی دن کے سفر کے بعد وہ مدینہ کے قریب پہنچے۔ فجر کے وقت انہوں نے ایک شخص کو آتے دیکھا۔ انہوں نے پوچھا: “ہم علی ابنِ ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ڈھونڈ رہے ہیں، وہ کہاں ملیں گے؟” اس شخص نے پوچھا: “کیا تم انہیں پہچانتے ہو؟” انہوں نے کہا: “نہیں۔” اس نے کہا: “پہلے مجھ سے کُشتی لڑو، اگر جیت گئے تو علی سے ملا دوں گا، کیونکہ میں جانتا ہوں وہ کہاں ہیں۔” درحقیقت وہ شخص خود امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔ مقابلہ شروع ہوا۔ فتح پہلوان نے تلوار سے حملے کیے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر وار روک دیتے۔ پھر کُشتی ہوئی، اس میں بھی فتح تھک گیا۔ آخر اس نے نیزہ اٹھایا، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صرف دفاع کیا، حملہ نہ کیا۔ کچھ دیر بعد فتح بولا: “میں ہار گیا، تم جیت گئے۔ بتاؤ تم کون ہو؟” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “جس علی کو تم ڈھونڈ رہے تھے، وہ میں ہی ہوں۔” یہ سن کر فتح کانپنے لگا اور رونے لگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اگر تم میرا سر لینے آئے ہو تو لو، میری گردن حاضر ہے۔” فتح رو پڑا اور بولا: “ای علی! میں آپ کو مارنے آیا تھا، مگر آپ کے کردار نے مجھے شکست دے دی۔ مجھے کلمہ پڑھا دیجیے، میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے کلمہ پڑھایا، اور وہ سچا مسلمان بن گیا۔ ایک اور واقعہ: ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ راستے سے گزر رہے تھے۔ ایک بدتمیز شخص آپ کو گالیاں دینے لگا۔ صحابہؓ نے عرض کیا اجازت دیں تو اسے سزا دیں، مگر حضرت علیؓ نے فرمایا: “چھوڑ دو۔” پھر آپ نے اس شخص سے نرمی سے کہا: “شاید تم مسافر ہو یا محتاج ہو، اگر رہنے کی جگہ، کھانا یا قرض کی ادائیگی چاہیے تو بتاؤ، ہم مدد کریں گے۔” یہ سن کر وہ شخص رو پڑا اور بولا: “آپ کے اخلاق نے میرا دل بدل دیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ حق پر ہیں۔” ایک اور واقعہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک عیسائی کے پاس اپنی زرہ دیکھی اور فرمایا یہ میری ہے۔ معاملہ قاضی کے پاس گیا۔ قاضی نے گواہ طلب کیے، مگر گواہ نہ ہونے پر فیصلہ عیسائی کے حق میں دیا۔ یہ دیکھ کر عیسائی حیران ہوا اور بولا: “یہی انبیا کا انصاف ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔” حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “اب یہ زرہ تمہاری ہے۔” اور اسے گھوڑا بھی تحفہ دیا۔ ناظرین! ان واقعات سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری صرف تلوار میں نہیں بلکہ اخلاق، عدل، صبر اور ایمان میں تھی۔ آپ کا کردار ایسا تھا کہ دشمن بھی دوست بن جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسا کردار عطا فرمائے کہ ہمارے اعمال سے لوگ دین کے قریب آئیں۔ آمین یا رب العالمین

ur男性中年会話形式ソーシャルメディア低い落ち着いたリラックスフレンドリーUrdu
公開
ボイスを使用
サンプル
音声サンプルはまだありません