**لبنان میں نوجوان کی پراسرار گمشدگی، اہلِ خانہ شدید پریشان** لبنان کے جنوبی علاقے سے 18 سالہ نوجوان جواد ایک ہفتے سے زائد عرصے سے لاپتہ ہے، جبکہ اس کے اہلِ خانہ اب تک اس کی کسی بھی قسم کی اطلاع حاصل نہیں کر سکے۔ جواد کی والدہ سان کے مطابق ان کی اپنے بیٹے سے آخری مرتبہ بات اس وقت ہوئی جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جنوبی لبنان سے واپس آ رہا تھا۔ اس دوران جنگ بندی نافذ ہو چکی تھی اور لوگ اپنے گھروں اور دیہات کی جانب لوٹنا شروع ہو گئے تھے، تاہم بعض علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری تھیں۔ سان نے بتایا کہ آخری فون کال میں جواد نے کہا کہ وہ راستے میں ہیں لیکن ایک ایسے علاقے میں پہنچ گئے ہیں جسے وہ پہچان نہیں پا رہے۔ چند منٹ بعد جب والدہ نے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا فون بند ہو چکا تھا اور اس کے بعد سے اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ جواد اور اس کا دوست ہادی اس دن لاپتہ ہونے والے واحد افراد نہیں تھے، بلکہ مزید دو افراد بھی اسی روز غائب ہو گئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 2024 کی جنگ کے بعد اب تک کم از کم 37 لبنانی شہریوں کے ایسے کیسز سامنے آ چکے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا ہے۔ ان میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو قانونی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ یا وکلا کو ان تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے اب تک زیرِ حراست افراد کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کو بھی ان قیدیوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری جانب لبنانی حکومت جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لاپتہ اور زیرِ حراست شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جواد کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا کسی سیاسی یا عسکری تنظیم سے وابستہ نہیں، بلکہ ایک عام نوجوان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں صرف یہ بتایا جائے کہ ان کا بیٹا کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔ سان کا کہنا ہے کہ انہوں نے لبنانی حکام، فوج اور اقوام متحدہ سمیت متعدد اداروں سے رابطہ کیا، لیکن اب تک ان کے اکلوتے بیٹے کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔