ایک زمانہ تھا جب یاسین کے لوگ، خاص طور پر املاسَت کے باسی، سردیوں کے موسم کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کی خاطر صبح کے تین، چار بجے اٹھتے تھے۔ پہاڑوں کا رخ کرتے، کئی گھنٹے پیدل سفر کرتے، وہاں سے تقریباً 15 سے 20 کلو وزنی لکڑی اپنی پیٹھ پر لاد کر صبح 9، 10 بجے تک واپس گھروں کو پہنچتے تھے۔ ایک سیزن میں 30 سے 40 "ہونے بالدا" (Hoonay Balda) لائے جاتے، جو سردیوں کے آخر تک بمشکل کافی ہوتے۔ نسل در نسل یہ مشقت بھرا سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔
پھر سن 2024 میں AKDN کے تعاون سے املاسَت میں ایک شاندار ہائیڈرو پاور ہاؤس تعمیر کیا گیا، جس نے لوگوں کو اس سخت مشقت سے بڑی حد تک نجات دلائی۔ خاص طور پر ہیٹنگ کے لیے بجلی میسر آئی، اور ایک سال تک املاسَت اور درکوت کے عوام نے اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ابتدا میں یہاں 3 روپے فی یونٹ کے حساب سے بل رکھا گیا، مگر بعد میں لوگوں نے خود سوچا کہ اگر مستقبل میں کسی خرابی یا نقصان کی صورت میں مرمت اور نظام کو برقرار رکھنا ہے تو رقم کی ضرورت پڑے گی، اسی لیے عوامی مشاورت سے 6 روپے فی یونٹ ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ سسٹم پائیدار رہے۔
املاسَت اور درکوت کے عوام کی یہ خوشی اور ترقی شاید کچھ لوگوں سے برداشت نہ ہوئی۔ خاص طور پر ہُندُر اور بلکُولتی کے کچھ حلقوں کی مداخلت کے باعث اب صورتِ حال یہ ہے کہ جو پاور ہاؤس اصل میں تقریباً 500 کلو واٹ کی گنجائش رکھتا ہے، اس سے درکوت سے لے کر بلکُولتی تک بجلی دینا نہایت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ روزانہ مشینوں پر اضافی لوڈ پڑ رہا ہے، خرابیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اور نظام دباؤ میں ہے۔
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ یاسین کے اسسٹنٹ کمشنر صاحب کی جانب سے یہ دھمکی بھی سامنے آئی کہ اگر دیگر علاقوں کو بجلی نہ دی گئی تو وہ اپنا کھمبا اور ٹرانسفارمرز اٹھا لیں گے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں؟
کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟
جو کھمبے اور ٹرانسفارمرز کئی سالوں سے ہماری زمینوں، ہمارے گھروں کے ساتھ نصب ہیں، کیا حکومت نے کبھی اس کا ہمیں کوئی کرایہ دیا؟
یہ بھی یاد رکھا جائے کہ املاسَت کے عوام نے اس پاور ہاؤس کے لیے اپنی زمینیں، اپنے وسائل جیسے پتھر، بجری، ریت وغیرہ بلا معاوضہ فراہم کیے۔ بہت سے لوگوں نے مہینوں تک رضاکارانہ (فری) محنت مزدوری کی، تاکہ اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر، آسان اور باعزت مستقبل بنایا جا سکے۔
اہم نکات / اچھے پوائنٹس:
املاسَت اور درکوت کے عوام نے خود قربانیاں دے کر یہ منصوبہ ممکن بنایا۔
مقامی کمیونٹی نے نہ صرف زمین دی بلکہ مواد اور مزدوری بھی فری دی، جو ایک مثالی کمیونٹی سپرٹ ہے۔
3 سے 6 روپے فی یونٹ کا اضافہ بھی عوام نے خود سسٹم کی پائیداری اور مرمت کے لیے قبول کیا، جو ان کی ذمہ دار شہری ہونے کی علامت ہے۔
یہ پاور ہاؤس صرف بجلی نہیں، بلکہ صحت، تعلیم، آن لائن کام، بچوں کے مستقبل اور زندگی کے معیار میں بہتری کا ذریعہ ہے۔
مطالبہ:
ہماری گزارش ہے کہ املاسَت اور درکوت کے عوام کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔ جو لوگ اس منصوبے کے اصل حق دار ہیں، انہیں بجلی، خاص طور پر ہیٹنگ اور گھریلو استعمال کے لیے ترجیحی بنیادوں پر بلا تعطل فراہم کی جائے۔ اگر مزید علاقوں کو بجلی دینی ہے تو اس کے لیے الگ، مناسب گنجائش اور منصوبہ بندی کی جائے، تاکہ نہ املاسَت اور درکوت کی قربانیاں ضائع ہوں اور نہ ہی پاور ہاؤس کی مشینری روز روز خراب ہو کر پورے نظام کو خطرے میں ڈالے۔
44 Utilisation totale•00 Total de J'aime•00 Part totale•00 Total économisé•
il y a 10 mois
en
Féminin
D'âge moyen
Um, you know, I was thinking about what happened yesterday, and... well, it's kind of interesting actually. Like, when you really stop and think about it, sometimes the simplest moments are, um, the ones that really stick with you.