🎃 شششش… وہ تمہیں سن رہا ہے
"اگر کبھی رات کے وقت تمہیں اپنے گھر کی چھت سے کسی کے چلنے کی آواز آئے… تو اوپر مت جانا۔"
کیونکہ کبھی کبھی…
چھت پر کوئی نہیں ہوتا۔
اور کبھی کبھی…
جو چیز وہاں چل رہی ہوتی ہے…
وہ تمہارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔
---
یہ بات عائشہ کو اس کی دادی نے بچپن میں بتائی تھی۔
دادی ہمیشہ رات کو گھر کی چھت کا دروازہ بند کر دیتی تھیں۔
صرف تالا نہیں لگاتیں تھیں…
بلکہ دروازے کے سامنے ایک بھاری لکڑی کی الماری بھی رکھ دیتی تھیں۔
عائشہ نے کئی بار پوچھا تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں۔
لیکن دادی ہر بار خاموش ہو جاتی تھیں۔
پھر اپنی انگلی ہونٹوں پر رکھ کر صرف ایک لفظ کہتیں:
"شششش…"
عائشہ سمجھتی تھی کہ دادی اسے ڈرانے کے لیے ایسا کرتی ہیں۔
لیکن وہ غلط تھی۔
بہت غلط۔
---
بارہ سال بعد…
عائشہ کو اپنی دادی کی موت کی خبر ملی۔
وہ فوراً اپنے آبائی گاؤں پہنچ گئی۔
دادی کا گھر گاؤں کے بالکل آخری سرے پر تھا۔
ایک پرانا، دو منزلہ گھر۔
چاروں طرف اونچے درخت۔
پیچھے ایک خشک کنواں۔
اور گھر کے اوپر…
ایک ایسی چھت…
جس کے بارے میں پورے گاؤں میں کوئی بات نہیں کرتا تھا۔
دادی کے جنازے کے بعد عائشہ رات کو اسی گھر میں رک گئی۔
گھر بہت بڑا تھا۔
اور عجیب طور پر خاموش۔
اتنا خاموش…
کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی کسی کے قدموں جیسی محسوس ہوتی تھی۔
رات کے تقریباً گیارہ بجے…
عائشہ اپنے کمرے میں لیٹ گئی۔
وہ تھکی ہوئی تھی۔
آنکھیں بند کرتے ہی اسے نیند آنے لگی۔
پھر…
اس نے آواز سنی۔
ٹھک…
عائشہ نے آنکھیں کھول دیں۔
آواز چھت سے آئی تھی۔
وہ خاموشی سے بستر پر بیٹھ گئی۔
پھر…
ٹھک… ٹھک…
جیسے کوئی چھت پر چل رہا ہو۔
ایک قدم۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
آواز آہستہ آہستہ اس کے کمرے کے بالکل اوپر آ کر رک گئی۔
عائشہ نے چھت کی طرف دیکھا۔
پھر اسے دادی کی بات یاد آئی۔
"رات کو چھت پر مت جانا۔"
وہ مسکرائی۔
اسے لگا…
دادی کی پرانی باتوں نے اس کے ذہن میں خوف پیدا کر دیا ہے۔
پھر اچانک…
چھت سے کسی چیز کے گھسیٹنے کی آواز آئی۔
گھڑرررررررر…
عائشہ کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
وہ بستر سے اتری۔
اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
اوپر جانے والی سیڑھیاں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
چھت کا دروازہ سب سے اوپر تھا۔
اور اس کے نیچے…
ایک پرانی لکڑی کی الماری رکھی تھی۔
بالکل ویسی ہی…
جیسی دادی ہر رات رکھا کرتی تھیں۔
عائشہ نے الماری کو غور سے دیکھا۔
اس پر دھول جمی ہوئی تھی۔
لیکن…
اس دھول پر انگلیوں کے نشان تھے۔
جیسے کسی نے ابھی اسے دھکیلا ہو۔
عائشہ پیچھے ہٹ گئی۔
اسی لمحے…
اوپر سے آواز آئی۔
ٹھک…
پھر خاموشی۔
عائشہ نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
اور چھت کے دروازے کے نیچے…
ایک سایہ نظر آیا۔
کسی کے پاؤں۔
عائشہ کی سانس رک گئی۔
وہ شخص…
دروازے کے دوسری طرف کھڑا تھا۔
پھر سایہ آہستہ آہستہ دروازے کے نیچے سے غائب ہو گیا۔
عائشہ نے سوچا شاید کوئی چور ہے۔
اس نے فوراً نیچے جا کر موبائل اٹھایا۔
اور پولیس کو فون کرنے ہی والی تھی کہ…
اس کے موبائل پر ایک نوٹیفکیشن آیا۔
"تمہیں ابھی اوپر نہیں آنا چاہیے تھا۔"
عائشہ کے ہاتھ سے موبائل تقریباً گر گیا۔
وہ پیغام…
کسی نامعلوم نمبر سے آیا تھا۔
اس نے نمبر پر کال کی۔
فون بجا۔
ایک بار۔
دو بار۔
تین بار۔
پھر کال اٹھا لی گئی۔
دوسری طرف…
خاموشی تھی۔
عائشہ نے کچھ نہیں کہا۔
پھر اسے اپنی ہی آواز سنائی دی۔
"ہیلو؟"
عائشہ کا خون جم گیا۔
وہ آواز…
اس کی اپنی آواز تھی۔
مگر وہ فون پر نہیں بولی تھی۔
فون کے دوسری طرف سے…
اس کی آواز دوبارہ آئی:
"ہیلو؟"
پھر…
ایک بہت آہستہ سرگوشی:
"عائشہ… دروازہ کھولو…"
عائشہ نے فون بند کر دیا۔
---
اگلی صبح…
گاؤں کے ایک بوڑھے شخص نے عائشہ کو دیکھا تو فوراً پوچھا:
"تم نے رات کو آواز سنی؟"
عائشہ رک گئی۔
اس نے پوچھا:
"آپ کو کیسے پتا؟"
بوڑھے نے جواب نہیں دیا۔
بس دادی کے گھر کی چھت کی طرف دیکھا۔
پھر کہا:
"تمہاری دادی نے اسے کئی سال تک روکے رکھا تھا۔"
عائشہ نے پوچھا:
"کسے؟"
بوڑھے نے اس کی طرف دیکھا۔
اور بہت آہستہ سے بولا:
"وہ جو آوازیں چراتا ہے۔"
عائشہ نے سوچا بوڑھا پاگل ہے۔
لیکن پھر اس نے پوچھا:
"میری دادی اس سے کیسے بچتی تھیں؟"
بوڑھے نے جواب دیا:
"وہ کبھی اس کی آواز کا جواب نہیں دیتی تھیں۔"
عائشہ کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔
بوڑھا مزید بولا:
"وہ تمہاری آواز سیکھ چکا ہے۔"
---
اس رات عائشہ نے گھر میں اکیلے نہ رہنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے اپنے کزن فہد کو فون کیا۔
فہد اسی گاؤں میں رہتا تھا۔
وہ شام کو گھر آ گیا۔
عائشہ نے اسے رات کے واقعے کے بارے میں بتایا۔
فہد ہنسنے لگا۔
اس نے کہا:
"تم شہر میں رہتے رہتے بہت ڈرپوک ہو گئی ہو۔"
اسی وقت…
اوپر چھت سے آواز آئی۔
ٹھک…
فہد کی ہنسی رک گئی۔
دونوں نے چھت کی طرف دیکھا۔
پھر…
ٹھک… ٹھک…
فہد نے کہا:
"کوئی جانور ہو گا۔"
وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
عائشہ نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
"دادی نے منع کیا تھا۔"
فہد نے مسکرا کر کہا:
"تمہاری دادی یہاں نہیں ہیں۔"
وہ الماری کو ایک طرف کرنے لگا۔
پھر…
چھت سے آواز آئی:
"فہد…"
فہد کا ہاتھ رک گیا۔
عائشہ نے اس کی طرف دیکھا۔
"اس نے تمہارا نام لیا؟"
فہد خاموش رہا۔
پھر چھت سے دوبارہ آواز آئی:
"فہد… دروازہ کھولو…"
فہد نے کہا:
"یہ کوئی مذاق کر رہا ہے۔"
اس نے الماری کو زور سے دھکیلا۔
اور چھت کا دروازہ کھول دیا۔
اوپر مکمل اندھیرا تھا۔
فہد نے موبائل کی فلیش جلائی۔
چھت خالی تھی۔
صرف ایک پرانی کرسی۔
اور اس کرسی پر…
ایک پرانا ریڈیو رکھا تھا۔
ریڈیو بند تھا۔
پھر بھی…
اس میں سے آواز آ رہی تھی۔
"فہد…"
فہد آہستہ آہستہ ریڈیو کے قریب گیا۔
عائشہ سیڑھیوں کے نیچے کھڑی رہی۔
ریڈیو سے پھر آواز آئی:
"فہد… پیچھے دیکھو…"
فہد نے فوراً پیچھے دیکھا۔
وہاں کچھ نہیں تھا۔
پھر ریڈیو سے آواز آئی:
"اب نیچے دیکھو…"
فہد نے زمین کی طرف دیکھا۔
اور اچانک…
اس کے چہرے سے رنگ اڑ گیا۔
عائشہ نے پوچھا:
"کیا ہوا؟"
فہد نے جواب نہیں دیا۔
وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔
عائشہ نے اوپر دیکھا۔
"فہد؟"
فہد نے سر اٹھایا۔
اس کے چہرے پر خوف تھا۔
اور اس نے سرگوشی کی:
"عائشہ… میں نے اپنے پاؤں کے نیچے کسی کا ہاتھ دیکھا ہے۔"
عائشہ نے زمین کی طرف دیکھا۔
وہاں کچھ نہیں تھا۔
لیکن فہد…
اب بھی اسے دیکھ رہا تھا۔
پھر…
چھت پر کسی کے قدموں کی آواز شروع ہو گئی۔
ٹھک…
ٹھک…
ٹھک…
مگر فہد وہیں کھڑا تھا۔
اور آواز…
اس کے پیچھے سے آ رہی تھی۔
عائشہ چیخی:
"فہد! نیچے آؤ!"
فہد سیڑھیوں کی طرف دوڑا۔
وہ نیچے پہنچا۔
اور دونوں نے چھت کا دروازہ بند کر دیا۔
اسی لمحے…
اندر سے کسی نے دروازے پر ہاتھ مارا۔
دھڑام!
دونوں پیچھے ہٹ گئے۔
پھر…
دروازے کے دوسری طرف سے فہد کی آواز آئی:
"عائشہ… دروازہ کھولو…"
فہد نے عائشہ کی طرف دیکھا۔
وہ اس کے ساتھ کھڑا تھا۔
عائشہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
دروازے کے دوسری طرف سے آواز دوبارہ آئی:
"عائشہ… میں اوپر رہ گیا ہوں…"
فہد نے آہستہ سے کہا:
"اسے جواب مت دینا۔"
عائشہ نے سر ہلایا۔
پھر دروازے کے دوسری طرف سے آواز بدل گئی۔
اب وہ…
عائشہ کی دادی کی آواز تھی۔
"بیٹی… دروازہ کھول دو…"
عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
یہ بالکل دادی کی آواز تھی۔
وہی لہجہ۔
وہی نرمی۔
وہی انداز۔
پھر آواز آئی:
"بیٹی… میں اکیلی ہوں…"
عائشہ نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
فہد نے فوراً اسے روک لیا۔
اور سرگوشی کی:
"تمہاری دادی مر چکی ہیں۔"
دروازے کے دوسری طرف…
خاموشی چھا گئی۔
پھر…
ایک نئی آواز آئی۔
عائشہ کی اپنی آواز۔
"فہد… مجھے بچاؤ…"
فہد نے آنکھیں بند کر لیں۔
اور کہا:
"یہ تمہاری آواز ہے۔"
عائشہ نے سر ہلایا۔
"میں نے کچھ نہیں کہا۔"
دروازے کے دوسری طرف سے…
آواز آئی:
"میں نے بھی نہیں۔"
---
رات کے تین بجے…
گھر کی تمام کھڑکیاں ایک ساتھ کھل گئیں۔
ہوا کا ایک شدید جھونکا اندر آیا۔
اور گھر کی تمام گھڑیاں رک گئیں۔
صرف ایک گھڑی چل رہی تھی۔
وہ گھڑی…
دادی کے کمرے میں تھی۔
عائشہ اور فہد آہستہ آہستہ اس کمرے میں داخل ہوئے۔
دیوار پر دادی کی پرانی تصویریں لگی تھیں۔
ایک تصویر میں…
دادی بہت جوان تھیں۔
ان کے ساتھ ایک چھوٹی بچی کھڑی تھی۔
عائشہ نے تصویر کو غور سے دیکھا۔
وہ بچی…
عائشہ خود تھی۔
مگر تصویر کے پیچھے…
ایک تیسرا سایہ بھی تھا۔
ایک لمبا سا سایہ۔
جو دونوں کے بالکل پیچھے کھڑا تھا۔
عائشہ نے تصویر اتاری۔
اس کے پیچھے ایک کاغذ چھپا ہوا تھا۔
اس پر دادی کی لکھائی میں صرف ایک جملہ تھا:
"یہ آواز نہیں چراتا… یہ پہلے تمہیں سنتا ہے۔"
کاغذ کے نیچے ایک اور جملہ تھا:
"اور جب یہ تمہاری آواز میں تمہیں بلائے… تو سمجھ لینا کہ وہ تمہارے بالکل قریب ہے۔"
عائشہ نے آہستہ سے فہد کی طرف دیکھا۔
اسی لمحے…
اس کے پیچھے سے آواز آئی:
"فہد…"
فہد نے فوراً عائشہ کی طرف دیکھا۔
عائشہ نے کچھ نہیں کہا۔
پھر آواز دوبارہ آئی:
"فہد… پیچھے مت دیکھنا…"
فہد کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
عائشہ نے محسوس کیا…
اس کے بالکل پیچھے کوئی کھڑا ہے۔
اسے کسی کی سانس محسوس ہوئی۔
فہد نے آہستہ سے پوچھا:
"عائشہ… تم میرے پیچھے تو نہیں کھڑی؟"
عائشہ نے جواب دیا:
"نہیں…"
فہد نے کہا:
"پھر… میرے پیچھے کون ہے؟"
عائشہ نے کچھ نہیں کہا۔
کیونکہ اس کے پیچھے…
اب ایک لمبا سایہ کھڑا تھا۔
اور اس کا سر…
چھت سے ٹکرا رہا تھا۔
پھر وہ سایہ آہستہ آہستہ جھکا۔
اور عائشہ کے کان کے قریب…
اس کی اپنی آواز میں سرگوشی کی:
"شششش…"
عائشہ نے فہد کا ہاتھ پکڑ لیا۔
دونوں بھاگ کر کمرے سے باہر نکلے۔
مگر گھر کا مرکزی دروازہ…
اب موجود ہی نہیں تھا۔
جہاں دروازہ ہونا چاہیے تھا…
وہاں صرف ایک خالی دیوار تھی۔
فہد نے دیوار کو چھوا۔
پھر دونوں نے پیچھے دیکھا۔
گھر کی تمام دیواروں پر…
دروازے بن چکے تھے۔
درجنوں دروازے۔
ہر دروازے کے پیچھے…
کسی نہ کسی کی آواز آ رہی تھی۔
کسی کی ماں۔
کسی کا بھائی۔
کسی کا بچہ۔
کسی کی مردہ دادی۔
اور ہر آواز ایک ہی بات کہہ رہی تھی:
"دروازہ کھولو…"
عائشہ نے کان بند کر لیے۔
پھر اسے ایک آواز سنائی دی۔
بہت آہستہ۔
بہت قریب۔
"عائشہ…"
وہ رک گئی۔
یہ آواز…
اس کی دادی کی نہیں تھی۔
فہد کی نہیں تھی۔
یہ آواز…
اس کی اپنی تھی۔
"عائشہ… میں تمہارے اندر ہوں…"
عائشہ کا جسم سن ہو گیا۔
آواز دوبارہ آئی:
"تم نے مجھے پہلی رات جواب دیا تھا…"
عائشہ کو اچانک یاد آیا۔
پہلی رات…
جب فون پر کسی نے کہا تھا:
"ہیلو؟"
اور اس نے جواب دیا تھا۔
"ہیلو؟"
اس نے اسے جواب دیا تھا۔
اور اسی لمحے…
وہ چیز اس کی آواز سیکھ چکی تھی۔
---
صبح ہونے پر…
گاؤں والوں نے دیکھا کہ دادی کا گھر مکمل خاموش ہے۔
فہد کا کوئی پتا نہیں تھا۔
عائشہ بھی غائب تھی۔
گھر کے تمام دروازے کھلے تھے۔
لیکن گھر کے اندر…
کوئی نہیں تھا۔
صرف چھت پر…
وہ پرانا ریڈیو پڑا تھا۔
ریڈیو بند تھا۔
پھر بھی…
اس میں سے ایک آواز آ رہی تھی۔
عائشہ کی آواز۔
"اگر کبھی رات کو تمہیں اپنی آواز سنائی دے…"
کچھ لمحوں کی خاموشی۔
پھر وہی آواز:
"تو اسے جواب مت دینا…"
گاؤں والوں نے ریڈیو بند کر دیا۔
لیکن اسی رات…
گاؤں کے ایک گھر کی چھت سے آواز آئی۔
ٹھک…
پھر…
ٹھک… ٹھک…
اور پھر…
ایک لڑکی کی آواز:
"امی… دروازہ کھولو…"
اگلی صبح…
گاؤں کے ایک گھر کی دیوار پر ایک نیا جملہ لکھا ہوا تھا۔
"وہ اب صرف چھت پر نہیں رہتا۔"
اور اس کے نیچے…
عائشہ کی آواز میں ایک آخری سرگوشی تھی:
"شششش… وہ تمہیں سن رہا ہے…"