محمد سیر اور اس کا محل شوگرام اپر چترال
محمد سیر المعروف محمد سیار (1750-1830) کا تعلق اپر چترال کے خوبصورت گاؤں شوگرام کے معزز قبیلہ محمد بیگا سے تھا۔ آپ محمد بیگ کے پوتے دوست محمد کے ہاں پیدا ہوا۔ آپ کا والد دوست محمد اپنے زمانے کے عالم، شمشیر زن صاحب قلم و دیوان اور کونسل کا ممبر تھا۔ محمد سیر ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ کچھ مدت تک بروز میں زیر تعلیم رہے۔ آپ اپنے زمانے کا چترال میں واحد تعلیم یافتہ، عالم فاضل، عاشق، شاعر، صاحب قلم صاحب دیوان، فلاسفر، عمارت ساز خطاط، نقش ونگار، ثروت مند اور ہمہ جفت صفت کا مالک بہت قابل ترین شخصیت تھے۔ آپ علمی تشنگی بجھانے اور سیر و سیاحت کےلئے ہندوستان، وسطی ایشیا اور عراق تک کا سفر کیا ہے۔ اکثر آپ بدخشان، بخارا اور ثمرقند کا چکر لگایا کرتے تھے۔
محمد سیر ایک عالم فاضل ہونے کے ساتھ اعلیٰ پائے کا شاعر اور ادیب بھی تھے۔ فارسی زبان میں آپ دیوان سیر کے نام سے ایک ضخیم دیوان اپنے ہاتھوں سے مرتب کیا ہے۔ جس کو مولا نگاہ نگاہ نے اردو ترجمہ کرکے دیوان بابا سیر شائع کر چکا ہے۔ جو کتاب گھروں اور لائبریریز میں دستیاب ہیں۔
محمد سیر علم وادب کی دنیا کی صوفیانہ شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آپ کے خیالات کائنات کی وسعتوں میں گھوڑا دوڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپنی شاعری کےلئے مادری زبان کھوار کے بجائے فارسی کو ذریعہ بنایا۔ آپ کا سارا دیوان فارسی میں ہے۔ جبکہ صرف ایک گیت یار من ہمین کھوار زبان میں اپنی مجازی محبوبہ کے نام کر چکا ہے۔ آپ کے تین تصنیف دیوان سیر، شاہنامہ اور سفینہ حیات بہت مشہور ہیں۔
ابتدا میں محمد سیر اپنی شاعری کا آغاز شوگرام کے قریبی گاؤں ریشن کے ایک معزز خاندان کے خاتون سے عشق لگا کر کیا۔ اور اہستہ اہستہ اپنے عشق کو حقیقت کا جامہ پہنایا۔ ایک پاک عشق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئے۔ چونکہ محمد سیر اپنی محبوبہ کی عزت کا بہت خیال رکھتا تھا۔ کبھی آپ کے قریب نہیں ہوتے تھے۔ جب بھی معشوقہ کی یاد ستاتی تو اس کے گاؤں ریشن جانے کے بجائے ریشن کے سامنے پہاڑی زومو سور پر جا کر محبوبہ کے گاؤں کا نظارہ کرکے عشق کی بیتابی کی تشنگی بجھاتے تھے۔ زومو سور میں آپ نے بیٹھنے کے لئے ایک چبوترہ نما پلیٹ فارم چترالی نخ بنایا تھا۔ وہاں جا کر بیٹھ جاتے اور محبوبہ کے گاؤں کا نظارہ اور شاعری کرتے تھے۔ آپ کے مقدس عشق کی مثال اس واقعہ سے واضح ہے کہ جب شوگرام پل پر معشوقہ سامنے آتی ہے تو اپنے آپ کو دریائے چترال میں گرا کر تیرتے ہوئے دوسرے کنارے پر نکل جاتا ہے۔ تاکہ اس کا بہت قریب بھی نہ ہو اور محبوبہ کو کراس کرتے ہوئے پیٹھ بھی اس کی طرف نہ ہو۔ محمد سیر اپنے معشوقہ کو حاصل کرنے کی سوچ بھی نہیں رکھتا تھا۔ آپ کا عشق پاک، حقیقی اور بے لوث تھا
آج مجھے محمد سیر کے محل کی باقیات دیکھنے کا موقع ملا۔ میں لڑکپن میں محمد سیر کے گھر کے تین کمرے دیکھا تھا۔ جو اپنی اصلی حالت میں موجود تھے۔ اب صرف دو کمرے رد وبدل کے ساتھ موجود ہیں۔ جبکہ محل کے بقایا کمرے وراثتی تقسیم اور مرور زمانہ محمد سیار کا یہ محل اپنی شان وشوکت کھو دیا۔ تاہم باقیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپنے زمانے کا یہ عالیشان محل تھا ۔
اس محل کے ہر کمرے کی در و دیوار نقش و نگاری، کشیدہ کاری اور گل کاری سے سجائے گئے تھے۔ دیواروں میں خوبصورت طاق بنائے گئے تھے۔ یہ طاق اس زمانے میں الماری کا کام دیتے تھے۔ اس میں ضروری کاغذات اور چھوٹی چیزیں رکھی جاتی تھیں۔ جو بچوں کی پہنچ سے دور ہوتے تھے۔ کیچڑ سے دیواروں پر ابھرے ہوئے حروف میں لکھے ہوئے اشعار دلکش ڈیزائن میں موجود تھے۔
جس زمانے میں محمد سیر چترال میں رہ رہا تھا۔ اس دور میں پورا گھر صرف ایک بائےپش کمرہ ہی پر مشتمل ہوتا تھا۔ بڑے لوگوں کا بائےپش کے ساتھ ایک باورچی خانہ بھی ہوتا تھا۔ جس کو راتھینی کہا جاتا تھا۔ یہ دونوں کمرے ایک دہلیز میں کھلتے تھے اور وہاں سے باہر جانے کا دروازا ہوتا تھا۔ مگر چترال میں محمد سیر کے گھر کی شان ہی نرالا تھا۔ جس سے آپ کے بڑا پن کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ سیر کا گھر اپنے زمانے کا بہت بڑا محل تھا
محمد سیر کے گھر کا نقشہ آپ کے اپنے انجنیرنگ، کاریگری اور ذوق کامل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محمد سیر کا گھر اٹھ بائےپش نما طرز کے کمروں پر مشتمل ایک محل تھا۔ چاروں طرف موجود کمرے عمارت کے درمیاں میں ایک بڑے دہلیز میں کھلتے تھے اور وہاں سے باہر جانے کا گلی نما راستہ اس محل کے ایک کونے سے صدر دروازے کو جاتا تھا۔ گھر کے کمروں کے ساتھ ایک چھوٹا معاون کمرہ بھی متصل ہوتا تھا۔ اس کو بطور سٹور یا کسی اور مقصد کےلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہر سٹور کے دروازے متصل کمروں میں کھلتا تھا۔
موجودہ وقت میں محمد سیر کے جو دو کمرے رد و بدل کے ساتھ موجود ہیں۔ ان میں محمد سیر کی نسل سے محمد رؤف خان رہائش پذیر ہے۔ محمد رؤف خان انتہائی پر خلوص، شرافت سے بھرپور اور مہمان نواز شخصیت ہیں۔ محمد رؤف نے مجھے محمد سیر کے دو کمرے دکھایا۔ جن کے ستون اپنی اصلی حالت میں ہیں۔
آپ کے محل جو اپنی اصلی حالت میں اگرچہ باقی نہ رہ سکے۔ تاہم اب اس کی نشانیان ستونوں اور دوسری لکڑیوں میں محفوظ ہیں۔محل کے تین کمروں میں سے ایک کمرہ جو ماضی قریب میں مسمار کرکے اس کی خوبصورت ڈیزائن والے ستون، دروازے اور دوسری خوبصورت لکڑیاں منور زمان کے پاس محفوظ رکھے گئی ہیں۔ جن سے دوبارہ اسی کمرہ کو بنایا جا سکتا ہے۔
محمد سیر نے محل میں جو کمرے بیٹوں کےلئے بنائے تھے۔ ان کے ستونوں میں مختلف ڈیزائن کے ساتھ اژدھے کی تصویریں نمایاں ہیں۔ جبکہ بیٹیوں کے کمروں کے ستون اور دوسری لکڑیاں گل کاری سے مزین ہیں۔ بابا سیار کا ذاتی کمرہ اور مہمانوں کےلئے کمرہ مختلف ڈیزائن کے نقش و نگاری پر مشتمل تھے۔ کمروں کی دیواروں پر خوبصورت انداز میں طاق بنے ہوئے تھے۔ دیواروں پر کیچڑ سے ابھرے ہوئے حروف سے شعر تحریر تھے۔ گویا ہر کمرے کے ڈیزائن اور نقش و نگاری کا انداز بھی مختلف ہے۔ ہر کمرہ اپنی نوعیت کی ایک دنیا تھی۔
محمد سیر کے شاعری کے بارے میں کافی ریسرچ بھی ہو چکا ہے۔ لیکن آپ کے محل اور ثروت مندی پر کسی نے قلم اٹھانے کی زحمت نہیں کی ہے۔ کسی نے آپ کی شاہانہ زندگی بڑی جائیداد، گھر، مال مویشیوں اور دولت کا بھی ذکر نہیں کیا ہے۔
آپ کی دولت اور نفاست کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کی محبوبہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ میرزا محمد ایوب درویش کے مقبرے کی زیارت کےلئے گہکیر جاتے ہوئے اپنے عاشق محمد سیر کا مہمان بنتی ہے۔ اس سے محمد سیر کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ آپ نے اپنی محبوبہ کی مہمان نوازی میں کئی بیل اور بکرے ذبح کرکے کھانا تیار کرتا ہے۔ پھر چلمچی میں مہمانوں کے ہاتھ دکھلاتا ہے۔ دسترخوان بچھانے کے بعد سب سے پہلے اپنے معشوقہ کے سامنے دہی کے ساتھ بہت پتلی روٹی، کلیم سلاد اور پرچ میں چمچہ رکھ کر پیش کرتا ہے۔ اس پر مہمان حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ سیار اپنی محبوبہ کو کیسا کھانا پیش کیا۔ پھر آپ کے ساتھ آئے ہوئے مہمانوں اور گاؤں کے لوگوں کو بڑی فراخدلی اور شان سے کھانا کھلاتا ہے۔ اپنے معشوقہ کو اس طرح کھانا پیش کرنے کا یہ انداز محبوبہ کی خوبصورت نرم و نازک ہونٹوں اور انگلیوں کو خوراک کی رنگت میں رنگنے سے بچانا تھا۔ یہ آپ کے مقدس حقیقی عشق، حسن کا خیال رکھنے اور پڑا پن کا ایک جھلک ہے۔ اسی طرح بہت سے کہاوتیں ہیں جن کو یہاں ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
کھوار زبان میں آپ کی اکلوتی گیت یار من ہمین چترال کے لوگ گیتوں میں سب سے ذیادہ گایا اور سنا جاتا ہے۔ ہر کھوار بولنے والے کو یاد ہوتی ہے اور بہت پسند کیا جاتا ہے۔ یار من ہمین لوک گیت کے چند اشعار نمونے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔
جو بس شوگرامی بیتی ریشنوتے کہ گوس کیانی بوئے
زیربلیان بڑوک بیتی شیر جوئین متے دوس کیانی بوئے۔
کورہ کورو برون شیونیان کورہ زومو ریژ بریکی
کورہ کوؤ درے مہ ماریر مہ لووا نو باک شریکی۔
زومو سورین لوڑیکو ریشنو کرو برون شیونی
کرو برون کھیو شیونی مہ دوستو شون دون شیونی۔
گاہی۔ ہیارہ اسوم گاہی بدخشانہ اسوم
سرخوں استور مہ موڑا پونگ لاکھی اڑغانہ اسوم
تو کہ دریائے شورشور تے موژو غیرنانو اوا
اسپوک نظر کہ اریت اللّٰہے دوسونو اوا
دیوان سیر سے فارسی اشعار کے نمونے۔
جنونم، وخشتم، گرد بادم، آوارہ ام رندم
بدشت بے خودی گم گشتہ گان را رہنما گشتم
اے سیر چو کشیدم لب از عدم
مادر بجائے شیر بکمم از شراب
چو رفت یار ز گلزار از نسیم فراق
بہ غصہ غنچہ گل پیرہن داریدنداشت