سنا ہے شہر میں نئے شکاری آئے ہیں... جو ہم سے ہماری زمینوں کا حساب مانگتے ہیں؟" (درمیان - طنزیہ ہنسی کے ساتھ) "بیٹا، جس راستے پر تم آج چلنے کی کوشش کر رہے ہو، وہاں کی خاک پر ہمارے نام کے نشان آج بھی مٹے نہیں ہیں۔ بدمعاشی کا شوق ہے تو پالو، لیکن یاد رکھنا... شیر بوڑھا بھی ہو جائے، تو گیدڑوں کی بستی میں اس کے پنجوں کی آہٹ ہی کافی ہوتی ہے۔" (عروج - رعب دار انداز) "میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں کل تھا، اور میری خاموشی کو میری کمزوری سمجھنے کی غلطی کبھی مت کرنا۔ کیونکہ جس دن میں نے بولنا شروع کیا، اس دن تمھارے پاس سننے کے لیے کان نہیں بچیں گے۔" (اختتام - ٹھنڈے لہجے میں) "ابھی تو بس آواز آئی ہے، دعا کرو کبھی سامنے نہ آنا پڑے۔"