ظلم یہ کہ ایک غزل کی فرمائش ہے ستم یہ کہ خود وہ نظم ہے اب میں کیا اس کے بارے لکھوں لکھوں تو لگے گا کوئی مثال ہو تعبیر نا ہو پائے جس کی ایسا میں ایک خواب لکھوں خواب جس میں الفت رہ جائے باقی وہی تھا پاس میرے یا وہم تھا میرا جاگنے پر کچھ ایسا میں اپنا حال لکھوں حال ایسا جو بیان کرے تصور تیرا کہ کیا میں مجھ میں ہوں باقی کچھ ایسا میں خود سے سوال لکھوں اور سوال جہاں تک ہے کھیل میں تیرا مجھ سے جیت جانے کا میں اپنی ہر ہار ایک اعزاز لکھوں اعزاز جو بنے قرار تیری صورت جیسا صورت ایسی جسے دیکھنے کو دل چاہے وجہ تجھے ہی میں ہر بار اور باکمال لکھوں is gazal ko Shayarana andaz main record kro