کبھی ہمارے پہاڑ سرسبز تھے… بڑے بڑے درخت تھے، ٹھنڈی ہوائیں تھیں، بارشیں تھیں، چشمے بہتے تھے اور بندر تک یہاں آ کر کھانا کھاتے اور کھیلتے تھے۔ یہ سب ہمارے علاقے کی خوبصورتی اور قدرتی نعمت تھی۔ میں پچھلے چھ سات سالوں سے لوگوں کو یہی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہمارے پہاڑوں کی اصل خوبصورتی ان کے درخت ہیں۔ اگر یہ درخت ختم ہو جائیں تو یہی خوبصورت پہاڑ ایک بنجر اور بدصورت پہاڑ بن جاتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چند سال پہلے ہمارے ہی علاقے کے کچھ مشرانوں کی نگرانی میں ان درختوں کو بےدردی سے کاٹ کر فروخت کر دیا گیا۔ وہ درخت جو شاید دہائیوں بلکہ صدیوں میں بڑے ہوئے تھے، چند دنوں میں ختم کر دیے گئے۔