کیا آپ کو پتہ ہے… ہمارے جہاں کا نام "دنیا" کس نے رکھا؟ نہیں نا؟ ارے بھائی صاحب… آج ایسا راز کھلنے والا ہے جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا! ہم روز کہتے ہیں: "دنیا ایسی ہے… دنیا ویسی ہے…" لیکن کبھی سوچا کہ اس کا نام دنیا کیوں ہے؟ اصل میں "دنیا" عربی زبان کا لفظ ہے۔ یہ لفظ بنا ہے "دَنَا" سے… جس کا مطلب ہوتا ہے "قریب ہونا"۔ یعنی دنیا کا مطلب ہوا: وہ زندگی جو قریب ہے… جو ابھی ہے… جو عارضی ہے… اسلامی تعلیمات میں آخرت کو اصل اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کہا گیا ہے، اور اس کے مقابلے میں اس زندگی کو "دنیا" کہا گیا — کیونکہ یہ وقتی ہے، عارضی ہے، اور اصل زندگی کے مقابلے میں کم درجے کی ہے۔ تو گویا… ہم جس چیز کے پیچھے ساری عمر بھاگتے رہتے ہیں، اس کا نام ہی ہمیں یاد دلا رہا ہے کہ یہ بس چند دن کی کہانی ہے! اب سوال یہ ہے… اگر دنیا عارضی ہے، تو کیا ہم اسے مستقل سمجھ کر غلطی تو نہیں کر رہے؟ سوچئے گا ضرور… اور اگر آپ کو یہ معلومات دلچسپ لگیں تو ویڈیو کو لائک اور شیئر کرنا مت بھولیے گا!
