ایک غریب عورت مٹی کے گھوڑے پر بیٹھ کر اپنے بندر کے ساتھ آ رہی تھی۔ گاؤں والوں کے پاس اصلی گھوڑے تھے، اس لیے وہ اس کا مذاق اڑانے لگے۔ ہنستے ہوئے انہوں نے پائپ سے پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ پانی پڑتے پڑتے مٹی کا گھوڑا گل گیا اور عورت سڑک پر گر کر رونے لگی۔ یہ دیکھ کر بندر بہت دکھی ہوا۔ وہ جنگل گیا اور دوسرے بندروں سے مدد مانگی۔ سب نے مل کر ایک بڑا درخت کاٹا اور اسے سڑک پر لے آئے۔ ایک بندر نے چھینی سے گھوڑے کا سر بنایا، دوسرے نے مضبوط ٹانگیں تراشیں، تیسرے نے اس کے کھُر بنائے، اور ایک نے خوبصورت پر بنا دیے۔ سب نے مل کر اسے ہموار کیا اور ایک شاندار یونیکورن تیار ہو گیا۔ عورت اس پر بیٹھی اور واپس گاؤں کی طرف آئی۔ گاؤں والوں نے پھر پانی ڈالا، لیکن اس بار کچھ نہیں ہوا۔ تب یونیکورن نے اپنے پر پھیلائے اور آسمان میں اُڑ گیا۔ یہ دیکھ کر گاؤں والے ڈر کر بھاگ گئے اور عورت اور بندر خوشی خوشی اُڑتے چلے گئے۔ پھر لائک اور سبسکرائب نہیں