حضرت آدمؑ کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا اور پھر انہیں اور حضرت حواؑ کو جنت میں رہنے کا حکم دیا۔ اللہ نے فرمایا کہ جنت کی ہر نعمت سے فائدہ اٹھاؤ، لیکن ایک مخصوص درخت کے قریب نہ جانا۔ شیطان، جو حضرت آدمؑ کا دشمن تھا، اس نے انہیں دھوکا دیا اور کہا کہ اگر تم اس درخت کا پھل کھاؤ گے تو ہمیشہ جنت میں رہو گے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ سے بھول ہو گئی اور انہوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین پر بھیج دیا تاکہ وہ یہاں زندگی گزاریں، اپنی اولاد کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور نیکی کے راستے پر چلیں۔ حضرت آدمؑ نے فوراً اپنی غلطی پر اللہ سے معافی مانگی، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ سبق: شیطان ہمیشہ انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جو شخص اپنی غلطی مان کر سچے دل سے اللہ سے توبہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔